خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 358
خطابات شوری جلد دوم ۳۵۸ مجلس مشاورت ۱۹۳۸ء اُس وقت تک کے لئے کہ اللہ تعالیٰ ہماری مالی حالت کو اچھا کرے، میری تجویز یہ ہے کہ آئندہ انٹرنس پاس طلباء مدرسہ احمدیہ میں داخل کئے جائیں۔اور صرف تین سال کا کورس ہو۔آئندہ چار سال تک ترتیب کے ساتھ نئی جماعت کا داخلہ روک دیا جائے اس طرح چار سال میں مدرسہ کی تین جماعتیں رہ جائیں گی۔اور انٹرنس پاس طلباء لئے جانے شروع ہو جائیں گے۔آج سے چار سال بعد انٹرنس پاس طلباء پانچویں جماعت میں داخل کئے جائیں جو آئندہ مدرسہ کی پہلی کلاس ہو گی۔تمام دُنیوی علوم جو آب پڑھائے جاتے ہیں وہ اُڑا دیئے جائیں سوائے انگریزی کے جو کالج کی لیاقت کے برابر ہو، جس کے لئے ایک لائق پروفیسر مقرر کیا جائے۔اگر کسی وقف کنندہ کو انگلستان میں تعلیم دلائی جائے تو وہ معمولی گزارہ لے کر کام کر سکے گا اور خرچ میں بھی کوئی خاص زیادتی نہ ہوگی۔نصاب میں اس امر کو مدنظر رکھا جائے کہ انگریزی میں کم سے کم ایف۔اے تک کی لیاقت مولوی فاضل پاس کرنے تک لڑکوں میں پیدا ہو جائے۔جو پانچ سال کے تعلیمی عرصہ کو مدنظر رکھتے ہوئے کوئی مشکل امر نہیں صرف اچھے پروفیسر کی ضرورت ہوگی۔اس دوران موجودہ عملہ کو دوسری جگہوں میں جذب کرنے کی کوشش کی جائے۔اور آہستہ آہستہ جب سب عملہ جذب ہو جائے یا ریٹائرڈ ہو جائے تو یہ بھی کوشش کی جائے کہ مدرسہ کو کالج میں جذب کر دیا جائے اور صرف چار جماعتیں کر دی جائیں یا پانچ ہی رہیں اور شروع سے ہی طب کی تعلیم کو نصاب میں شامل کر لیا جائے۔اس تجویز پر عمل کر کے چار سال کے عرصہ تک مدرسوں اور وظائف وغیرہ کی تخفیف سے میں سمجھتا ہوں کا فی تخفیف ہو جائے گی اور چونکہ بنیاد اس تعلیم کی ہائی سکول ہو گا اس کی دینیات کی طرف زیادہ توجہ ہو جائے گی اور یہ زائد فائدہ ہوگا۔جیسا میں نے کہا ہے میں دینیات کے ماحول کو بچپن سے شروع کرنا پسند کرتا ہوں۔لیکن سر دست مالی مشکلات اور عملہ کی دقتوں کو دور کرنے کا یہ اچھا ذریعہ ہے۔اس کے بعد جب حالات درست ہوں ، بالکل ممکن ہے کہ ضروری ماحول ہائی سکول میں ہی پیدا کرنے کی رائج الوقت قانون اجازت دے دے۔یا پھر نئے سرے سے مدرسہ کی جماعتیں کھول دی جائیں۔چھوٹی جماعتیں ہر وقت آسانی سے کھولی جاسکتی ہیں اس میں