خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 357
خطابات شوری جلد دوم ۳۵۷ مجلس مشاورت ۱۹۳۸ء طب کے عربی کی تعلیم کی جماعتیں بھی کھول دیں تو تھوڑے ہی عرصہ میں مختلف علاقوں میں احمدیت کے مرکز قائم ہو سکتے ہیں۔انشاء اللہ تعالی۔در حقیقت طب، تعلیم اور تجارت یہ تین بہترین ہتھیار تبلیغ کے ہیں اور انہی کے ذریعہ تبلیغ کو وسعت دی جاسکتی ہے۔ہم نے تحریک جدید کے کام میں تجربہ کیا ہے کہ تعلیم کا ہتھیار اور علاج کا ہتھیا را کثر جگہ نہایت کامیاب ہوا ہے۔اور اشد ترین دشمن جو پہلے نفرت کرتے تھے محبت سے پیش آنے لگ گئے ہیں۔اسی طرح یہ بھی فیصلہ کر لینا چاہئے کہ جو طلباء جامعہ کی آخری جماعتوں سے فارغ ہوکر نکلیں اُن کو سلسلہ کی کارکنی کے لئے دوسروں پر ترجیح دی جائے۔اس طرح بھی ان جماعتوں کے طلباء کیلئے کام نکل سکے گا اور یہ جماعتیں بند کرنے کی ضرورت پیش نہ آئے گی۔اس فوری بچت کے علاوہ بعض اور اصلاحات بھی میرے ذہن میں ہیں جن پر غور کر لیا جائے۔یہ اصلاحات بھی آئندہ چند سال میں جا کر اخراجات میں خاص کمی کر دیں گی۔اور موجودہ حالات کے لحاظ سے کام میں بھی ان سے ترقی ہو جائے گی۔(۱) مدرسہ احمدیہ کی نسبت میرا ہمیشہ سے یہ خیال رہا ہے اور اب بھی ہے کہ اگر حالات مساعدت کریں تو اس کی جماعتیں شروع سے الگ رہیں تا کہ دین کا خالص ماحول پیدا ہو جائے۔اور میں ہمیشہ اس امر پر زور دیتا رہا ہوں کہ اس کی چھوٹی جماعتیں بھی الگ رہیں۔لیکن عملاً آکر ایک وقت معلوم ہوئی ہے جس کا حل اس وقت ہمارے پاس نہیں ہے اور وہ یہ کہ مالی دقت کی وجہ سے مدرسہ کا عملہ ہمیشہ ایسا مقرر ہوتا رہا ہے جو حساب بجغرافیہ وغیرہ کی اعلیٰ لیاقت پیدا کرنے کا اہل نہ تھا اور اسی طرح انگریزی کی اعلیٰ تعلیم جس کے نتیجہ میں مبلغ انگریزی لیکچر وغیرہ دے سکیں کبھی نہیں دی گئی اور موجودہ حالت میں نہیں دی جاسکتی۔نتیجہ یہ ہوا ہے کہ مدرسہ احمدیہ کے سات سالہ نصاب اور جامعہ کے چارسالہ نصاب کے باوجود ان کی انگریزی اور دنیوی واقفیت بالکل کم ہوتی ہے۔دوسری طرف ہائی سکول میں یہ نقص ہوتا ہے کہ اس کے لئے دینیات کا اعلیٰ عملہ مہیا نہیں کیا گیا۔جس کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ وہاں سے طلباء دینیات کی نامکمل تعلیم پا کر نکلتے ہیں۔پس ان حالات کو دیکھتے ہوئے ) کہ ابھی ہماری مالی حالت ایسی نہیں کہ دو بوجھ ایک وقت میں اُٹھا سکیں)