خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 356
۳۵۶ مجلس مشاورت ۱۹۳۸ء خطابات شوری جلد دوم میری رائے میں یہ بہتر ہو گا کہ ان طلباء میں سے مستحق اور لائق طلباء کو تکمیل تعلیم کے بعد کچھ رقم کام کی ابتدائی مشکلات پر قابو پانے کے لئے دے دی جائے۔بے شک اس صورت میں ہمیں ایک اچھا طبیب ملازم رکھنا ہو گا لیکن یہ خرچ زیادہ نہ ہوگا کیونکہ انجمن کے کئی عہدہ دار ریٹائرڈ ہونے والے ہیں اور اس عملہ میں سے گنجائش نکالی جاسکتی ہے۔اس تجویز کے ماتحت اگر دیکھا جائے تو خرچ اور آمد کی صورت یہ ہو گی۔ایک طبیب فرض کرو ساٹھ روپیہ ماہوار کا، چالیس روپے دوائیوں وغیرہ کے لئے گل سو روپیہ ماہوار۔تین لڑکے جن کو وظیفہ دیا جائے۔(بشرطیکہ اس کے بغیر گزارہ نہ چلے ) تمیں روپیہ ماہوار۔اس میں سے آخری خرچ اب بھی ہو رہا ہے۔پس صرف سو روپیہ ماہوار خرچ بڑھے گا جو میں نے بتایا ہے انجمن کے موجودہ عملہ کی تبدیلیوں سے پورا ہو سکتا ہے اور اسی سال ہوسکتا ہے۔جب طالب علم پاس ہوں تو جیسا کہ میں نے اوپر ذکر کیا ہے ضرورت مند اور وقف کنندہ طلباء کو کچھ رقم جو میرے خیال میں سو روپیہ سے دوسو روپیہ تک مناسب ہوگی امداد یا قرض دے کر کسی خاص مقام پر جو تبلیغ اور طب دونوں کے لحاظ سے اچھا ہو ، بٹھا دیا جائے۔اگر اس امداد کی اوسط سو روپیہ فی طالب علم کبھی جائے تو یہ تین سو روپیہ ہوگا۔جب کبھی سلسلہ کو مزید مبلغوں کی ضرورت پیش آئے ان طلباء میں سے ایک یا ایک سے زیادہ طالب علموں کو حسب ضرورت منتخب کر کے ایک سال کے زائد مطالعہ کے بعد کام پر لگا دیا جائے۔اس طرح نئے مبلغ بھی وقت پرمل سکیں گے اور جن کی ضرورت نہ ہو گی اُن کی عمر بھی ضائع نہ ہوگی۔اس وقت تین مبلغ سالانہ لئے جاتے ہیں۔ان کی تنخواہ ۴۵ سے ۶۵ تک ہوتی ہے۔اور اوسط ۵۵ فرض کر کے پونے دو سو روپیہ ماہوار کی بچت صرف پہلے سال میں نکل آتی ہے جو دس سال میں بیس ہزار سالانہ کی بچت بن جاتی ہے۔زائد تین سو کا خرچ جو طب کا کام چلانے کے لئے دیا جانے کی تجویز ہے، وہ بھی اگر ضرورت ہو صرف سفر خرچ کی کمی سے نکل آتا ہے۔کیونکہ قریباً فی مبلغ ایک سو روپیہ سالانہ سفر کے اخراجات میں خرچ ہوتے ہیں۔پس ان تین مبلغوں کے اُڑ جانے سے تین سو روپے سفر خرچ کے بیچ جاتے ہیں اور یہی رقم حسب ضرورت فارغ التحصیل طلباء کو کام چلانے کے لئے دی جاسکتی ہے اور ہندوستان میں مختلف جگہوں پر مطب کھولے جا سکتے ہیں۔اگر جیسا کہ میں نے اوپر لکھا ہے یہ لوگ علاوہ