خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 351
خطابات شوری جلد دوم ۳۵۱ مجلس مشاورت ۱۹۳۸ء میں سوائے ایک دفعہ کے کہ اُس وقت تک مجلس شوریٰ کا قیام نہ ہوا تھا، تفصیلات میں میں نے خود دخل نہیں دیا۔اور صرف اصولی طور پر جماعت کو ان کی ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلا دیتا رہا ہوں مگر میں دیکھتا ہوں کہ اب تک صورتِ حالات پر قابو پانے میں کامیابی نہیں ہوئی۔اور آخری دس سال میں باوجود آمد کے بہت زیادہ ہو جانے کے اخراجات آمد سے بڑھے ہی رہے ہیں۔جہاں تک مجھے یاد ہے میں اپنے مشوروں میں ان اصولوں پر زور دیتا رہا ہوں :- (۱) مومن کو قدم ہمیشہ آگے بڑھانا چاہئے اور کام شروع کر کے سوائے اس کے کہ اس میں نقص معلوم ہو یا اس میں بہتر تبدیلی کی صورت پیدا ہو جائے یا اس کی ضرورت نہ رہے یا اس میں پیچھے ہٹنا کسی بڑے اسلامی فائدہ کے لئے ہوا سے چھوڑنا نہیں چاہئے۔(۲) قربانیوں میں کمی نہیں ہونی چاہئے بلکہ ہمیشہ زیادہ سے زیادہ قربانی کی طرف ہمیں قدم اُٹھانا چاہئے ورنہ دلوں پر زنگ لگ کر انسان کا ایمان ضائع ہو جاتا ہے۔(۳) قربانی کا مطالبہ صرف مرکزی کارکنوں سے نہیں کرنا چاہئے بلکہ جماعت کو بالمقابل قربانی کے لئے تیار رہنا چاہئے۔کیونکہ در حقیقت ہم سب اللہ تعالیٰ کے دین کے خادم ہیں صرف شکل مختلف ہے۔کوئی مرکز میں رہ کر پورے وقت کی خدمت کرتا ہے، کوئی باہر جا کر خدمت کرتا ہے اور اپنی کمائی سلسلہ کے لئے دے دیتا ہے۔گویا ہماری مثال بالکل ویسی ہے جیسے ایک مالک کے پاس بہت سے غلام ہوں ان میں سے بعض کو تو وہ اپنے گھر پر لگا دے اور بعض کو دوسری جگہوں پر کام کے لئے بھیج دے اور ان کی مزدوری سے فائدہ اُٹھائے۔پس جو بھی ہم میں سے ایمان رکھتا ہے وہ اپنے آپ کو اسی مقام پر سمجھے گا اور اس وجہ سے اس کا مطالبہ یہ نہ ہوگا کہ فلاں سے قربانی کا مطالبہ کیا جائے بلکہ یہ ہو گا کہ مجھے بھی برابر بلکہ بڑھ کر قربانی کا موقع دیا جائے۔ان تینوں اصولوں کے ماتحت میں جماعت کو بجٹ میں تبدیلی کے لئے کہتا رہا ہوں اور دوستوں نے پوری کوشش سے اصلاح کی کوشش بھی کی ہے لیکن نتائج اب تک ایسے خوش کن نہیں نکلے جیسے کہ اُمید تھی۔میں سمجھتا ہوں اب جبکہ دشمنوں نے اندرونی و بیرونی حملوں سے سلسلہ پر یورش کی ہے ہمیں پورے طور پر مالی پریشانی کے سوال کو حل کر دینا چاہئے تا کہ