خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 352
خطابات شوری جلد دوم ۳۵۲ مجلس مشاورت ۱۹۳۸ء پوری طاقت سے مخالف پروپیگنڈا کا مقابلہ کیا جاسکے اور کام کو پہلے سے بہتر بنایا جا سکے۔اس غرض کو مد نظر رکھتے ہوئے میں نمائندگان مجلس مشاورت سے خواہش کرتا ہوں کہ وہ مجھے اپنے مشوروں سے آگاہ کریں اور بعض تجاویز اپنی طرف سے بھی ان کے غور کے لئے پیش کرتا ہوں۔ا۔خرچ کی بابت :- جب بار پڑ رہا ہو تو سب سے پہلے ہمیں یہ کوشش کرنی چاہئے کہ خرچ کی زیادتی کو روکیں تا کہ گزشتہ بار کو دور کرنے میں سہولت ہو۔اور اب ایسے حالات ہو چکے ہیں کہ جن کی موجودگی میں اس قسم کا انتظام ضروری ہے۔پس میں تجویز کرتا ہوں کہ خرچ کی مستقل طور پر زیادتی کے موجبوں کو بند کر دیا جائے۔مثلاً : - (۱) جب تک مالی حالت میں درستی پیدا نہ ہو تمام ترقیات روک دی جائیں۔سر دست تین سال کے لئے یہ فیصلہ کیا جائے۔اگر اس سے پہلے حالات درست ہو جائیں تو پھر اس سوال پر غور کر لیا جائے اور اگر تین سال کے خاتمہ سے پہلے درست نہ ہوں تو تین سال کے ختم ہونے پر پھر حالات پر غور کر لیا جائے۔(۲) آئندہ کے لئے تین مبلغوں کی سالانہ زیادتی کو ملتوی کر دیا جائے۔بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس طرح ہم قدم پیچھے ہٹاتے ہیں لیکن در حقیقت ایسا نہیں ہے کیونکہ یہ قاعدہ اُس وقت جاری کیا گیا تھا جبکہ تحریک جدید جاری نہیں ہوئی تھی۔تحریک جدید کے اجراء کے پہلے تین سال میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے چالیس کے قریب مبلغ کام کر رہے ہیں یا تیار ہو رہے ہیں۔گویا دس بارہ مبلغوں کی زیادتی سالا نہ ہوئی ہے اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہ زیادتی بڑھتی جائے گی۔پس جبکہ تبلیغ کا کام پہلے سے وسیع ہو رہا ہے اور آئندہ اس کے وسیع ہونے کی صورت خدا تعالیٰ کے فضل سے نظر آ رہی ہے تو ان مبلغوں کی با قاعدہ بھرتی کے قاعدہ کو ملتوی کر دیا جائے اور صرف یہ قاعدہ رکھا جائے کہ حسب ضرورت مبلغ لئے جائیں گے۔تو اس سے ہم کام میں کمی نہیں کرتے بلکہ صرف کام کی ترقی کی صورت بدلتے ہیں جو جائز ہی نہیں بلکہ بعض حالات میں ضروری اور زیادہ نفع رساں ہوتی ہے۔(۳) مبلغوں کے دورے بند کر دیئے جائیں۔اُن کے مقام مقرر کر کے وہاں پہنچا دیا