خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 334
خطابات شوری جلد دوم ۳۳۴ مجلس مشاورت ۱۹۳۸ء دیا ہو۔نہ معلوم اُس نے یہ زمانہ سو سال تک پھیلا دیا ہے یا ڈیڑھ سو سال تک لیکن بہر حال یہ زمانہ تین سو سال گزرنے سے بہت پہلے آئے گا کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرما چکے ہیں کہ ابھی تیسری صدی پوری نہیں ہوگی کہ احمدیت کو کامل غلبہ حاصل ہو جائے گا اور دنیا میں ایک ہی مذہب ہوگا اور ایک ہی پیشوا کیا اور یہ وسیع کا میابیاں اگر تین سو سال سے پہلے آنی ہیں تو لازماً اس کامیابی کے ابتدائی دور سے پہلے یہ تکلیفیں جماعت کو پہنچنی ہیں۔پس ہمارے لئے خون کی ندیوں میں سے گزرنا مقدر ہے اور وہ زمانہ بہر حال تین سو سال سے پہلے ہے اس وجہ سے جب تک اس قسم کی ذہنیت رکھنے والے نفوس ہمارے اندر شامل نہ ہوں جن کے چہروں سے ہی یہ ظاہر ہورہا ہو کہ اگر ہمیں آروں سے چیر دیا جائے یا آگ میں جلا دیا جائے ، تو احمدیت سے منحرف نہیں ہو سکتے اور ہمیشہ ہماری زبانوں پر یہ اعلان رہے گا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے سچے نبی تھے اُس وقت تک میں نہیں سمجھ سکتا کہ ہم کس منہ سے کہہ سکتے ہیں کہ ہم ایک نبی کی جماعت ہیں۔یہ وہ ذہنیت ہے جس کے مطابق ہمیں اپنے نفوس میں تغیر پیدا کرنا چاہئے۔بے شک مجھے ان تمام باتوں پر یقین ہے مگر میرا یقین تمہیں کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتا۔اگر تم چاہتے ہو کہ تم اور تمہاری نسلیں آئندہ ناکامی کا منہ نہ دیکھیں تو خیالات کی وہ رو جو میں پیدا کرنا چاہتا ہوں اُسے اپنے اور اپنی آئندہ نسلوں کے دلوں میں پیدا کرو۔جب خیالات کی یہ رو چل پڑے گی تو تمہاری آئندہ نسلیں بالکل محفوظ ہو جائیں گی۔میں یہ نہیں کہتا کہ جن مصائب کا میں نے ذکر کیا ہے یہ ضرور میری زندگی میں آئیں گے ہو سکتا ہے کہ یہ میری زندگی میں نہ آئیں۔اور ہو سکتا ہے کہ تمہاری زندگیوں میں بھی نہ آئیں۔لیکن اگر تم اپنے اندر یہ ذہنیت پیدا کر لو گے تو یقیناً تمہاری اولادوں کے قدم بھی لڑکھڑانے سے محفوظ رہیں گے اور اگر یہ ذہنیت پیدا نہیں کرو گے تو خود تمہارے قدم بھی لڑکھڑا جائیں گے۔ایک کشمیری کا بیٹا کشمیری ہوتا ہے اور پٹھان کا بیٹا پٹھان۔اسی طرح اس ذہنیت کے نتیجہ میں جو تمہارے ہاں اولاد ہوگی وہ بھی اسی ذہنیت کی حامل ہوگی۔اور اگر تمہارے اندر یہ ذہنیت نہیں ہوگی تو تمہاری اولادیں بھی بُزدل ہوں گی۔بے شک انفرادی طور پر بعض تبدیلیاں بھی ہوتی ہیں۔مگر قانون میں استثنائی حالات کو مد نظر نہیں رکھا جاتا۔ایک قوم جو بہادر ہو