خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 333 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 333

خطابات شوری جلد دوم ۳۳۳ مجلس مشاورت ۱۹۳۸ء لئے پہلے سے تیاری کرنی چاہئے۔اگر ہم قبل از وقت ان کے لئے تیار نہیں ہوں گے تو موقع آنے پر بالکل گھبرا جائیں گے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو اپنی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام والدہ سے بہت محبت تھی۔غالبا آپ جن کی اپنی والدہ سے محبت دنوں سیالکوٹ میں تھے یا کسی اور مقام پر قادیان سے باہر تھے کہ آپ کو خبر پہنچی کہ آپ کی والدہ سخت بیمار ہیں۔یہ سُن کر آپ فوراً قادیان کی طرف روانہ ہو گئے۔جب آپ بٹالہ سے یکہ میں بیٹھ کر قادیان کی طرف روانہ ہوئے تو جو شخص لینے آیا ہوا تھا وہ بار بار یکہ والے سے کہنے لگا کہ ذرا جلدی کرو، بی بی صاحبہ کی طبیعت بہت ہی خراب تھی خدا خیر کرے۔پھر تھوڑی دیر کے بعد اور زیادہ یکہ والے کو تاکید کرنے لگا اور یوں کہنا شروع کیا کہ کہیں خدانخواستہ فوت ہی نہ ہو گئی ہوں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے تھے میں نے اس فقرہ سے سمجھ لیا کہ وہ فوت ہو چکی ہیں اور یہ مجھے صدمہ کے لئے تیار کر رہا ہے اور میں نے اُس سے کہا کہ تم ڈرو نہیں اور جو سچ سچ بات ہے وہ بتا دو۔اس پر اُس نے کہا کہ بات تو یہی ہے کہ وہ فوت ہو چکی ہیں۔اب دیکھو وہ اس قسم کے فقرات تھوڑی تھوڑی دیر کے بعد کہہ کر آپ کو صدمہ کی خبر سنانے کے لئے تیار کر رہا تھا۔ورنہ جو حادثہ ہونا تھا وہ ہو چکا تھا تو دُنیا میں جو معمولی حادثات وقوع میں آتے ہیں اُن کی برداشت کے لئے بھی تیاری کی ضرورت ہوتی ہے لیکن یہ جس صدمہ کا میں ذکر کر رہا ہوں یہ تو بہت ہی اہم ہے اور قوموں اور ملکوں سے تعلق رکھتا ہے۔حق یہ ہے کہ میں آپ لوگوں کے سامنے وہ بات پیش کر رہا ہوں جو ایسی ہی یقینی ہے جیسے سورج کا نکلنا۔اگر یہ یقینی بات ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اللہ تعالی کے نبی تھے ، اگر یہ یقینی بات ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جماعت منہاج نبوت پر قائم کی گئی ہے، تو جب تک ہماری گردن پر تلواریں نہیں رکھی جائیں اور جب تک ہمارے خون کی ندیاں دنیا میں نہیں بہا دی جاتیں اُس وقت تک ہمارا کامیابی حاصل کرنا ناممکن اور بالکل ناممکن ہے۔ممکن ہے اللہ تعالیٰ نے ہماری کمزوریوں کو دیکھتے ہوئے اس زمانہ کو لمبا کر