خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 332 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 332

خطابات شوری جلد دوم ۳۳۲ مجلس مشاورت ۱۹۳۸ء اور اُنہوں نے عرض کیا کہ ہمارے پاس کوئی سواری نہیں جس پر ہم سفر کر سکیں۔اگر ہمارے لئے سواری کا انتظام ہو جائے تو ہم چلنے کے لئے تیار ہیں مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ میرے پاس کوئی چیز نہیں وہ یہ سن کر افسوس کے ساتھ روتے ہوئے چلے گئے۔پھر بعض کی تو یہ حالت ہوتی تھی کہ وہ دوسروں سے مانگنے کے لئے چل پڑتے تھے۔چنانچہ ایک صحابی کہتے ہیں میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور میں نے عرض کیا کہ میرے لئے کوئی سامان مہیا فرما دیجئے۔آپ نے فرمایا میرے پاس کوئی چیز نہیں۔اس پر میری حالت اتنی غیر ہو گئی اور مجھے اس قدر صدمہ پہنچا کہ میرا صدمہ ہر ایک کو نظر آنے لگ گیا۔یہ دیکھ کر ایک صحابی نے جن کے پاس دو اونٹنیاں تھیں، ایک اونٹنی مجھے دے دی اور کہا کہ اس پر سوار ہو کر چلو ایک اور صحابی کہتے ہیں کہ میں کسی سے اونٹنی مانگنے بھی نہیں گیا۔میرے لئے تو میری کھڑاواں ہی سواری تھی۔پھر بعض غرباء رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر کہتے کہ یا رسول اللہ ! ہمیں صرف جُوتی مل جائے مگر آپ فرماتے کہ میرے پاس جوتی بھی نہیں اے اس پر وہ جہاد سے محروم رہنے پر روتے ہوئے چلے جاتے۔یہ تیاری تھی جو غرباء کرتے اور جس کے نتیجہ میں بسا اوقات وہ جہاد میں شامل ہو جاتے اور اگر نہ بھی ہو سکتے تو بھی اپنے دل کی نیت کی وجہ سے ثواب میں شامل رہتے مگر وہ لوگ جو تیاری نہیں کرتے تھے با وجود دولت مند ہونے کے بعض دفعہ ثواب سے محروم رہ جاتے۔تو اصل چیز یہ ہے کہ مشکلات کا مقابلہ کرنے کی قبل از وقت تیاری کی جائے۔اگر خطرہ محض خیالی ہو تو بے شک اس کے لئے تیاری نہ کرنا کوئی نقصان رساں نہیں ہوتا لیکن اگر خطرہ حقیقی ہو تو ضروری ہوتا ہے کہ اس خطرہ کے آنے سے پہلے اپنی ذہنیت میں تبدیلی کی جائے۔اور خطرات کا مقابلہ کرنے کے لئے اپنے آپ کو تیار کیا جائے۔یہی وہ چیز ہے جس کی طرف میں اپنی جماعت کو لا رہا ہوں مگر مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ جماعت کے بعض دوست اس حکمت کو نہیں سمجھتے اور وہ یہ کہتے سنائی دیتے ہیں کہ جب کوئی خطرہ موجود ہی نہیں تو یہ شور کیا مچار ہے ہیں۔وہ سمجھتے ہیں کہ جب خطرہ آئے گا تو اُس کا مقابلہ کر لیا جائے گا اور میں یہ کہتا ہوں کہ جو شخص آج تیاری نہیں کرتا وہ خطرہ کا مقابلہ نہیں کر سکے گا۔پس خطرات کا مقابلہ کرنے کے