خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 331
۳۳۱ مجلس مشاورت ۱۹۳۸ء خطابات شوری جلد دوم اور بتایا کہ آپ کے ذریعہ دُنیا کو روشن کرنے کے لئے ایک نیا تیل دیا جائے گا جو لوگ اس تیل کو اپنے پاس رکھیں گے اور اس کی روشنی میں اپنے آپ کو چلائیں گے وہی مسیح ثانی کو قبول کر سکیں گے مگر جن کے پاس یہ تیل نہیں ہو گا اُن کے لئے دروازہ بند کیا جائے گا اور اُن کے لئے رونا اور دانت پیسنا ہو گا۔چنانچہ جیسا کہ میں نے بتایا ہے آج مسیح ثانی کے ساتھ زیادہ تر وہی قوم ہے جس نے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لائے ہوئے تیل کا استعمال کیا۔قرآن کریم نے بھی دینِ اسلام کو زیتون کے تیل سے مشابہت دی ہے۔اور فرمایا کہ لا شرييّةٍ ولا غربيّة وہ ایسا تیل ہوگا کہ دُنیا میں اس کی کوئی نظیر نہیں مل سکے گی۔تو جو لوگ پہلے سے تیاری کرتے ہیں، وہی موقع پر کامیاب ہوا کرتے ہیں مگر جولوگ تیاری نہیں کرتے وہ کبھی کامیاب نہیں ہوتے۔صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا اخلاص رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب جہاد کے لئے نکلتے تو بعض دفعہ وہ مال دار جن کے پاس بہت کچھ جمع ہوتا اس میں شامل ہونے سے محروم رہ جاتے تھے۔محض اس وجہ سے کہ وہ خیال کرتے تھے کہ ہمیں تیاری کی ضرورت نہیں۔ہم جب چاہیں گے نکل کھڑے ہوں گے نتیجہ یہ ہوتا کہ آخر وقت میں جب سامان تلاش کرتے تو نہ ملتا۔ایک دفعہ تین صحابہ اسی خیال کے ماتحت رہ گئے۔اُنہوں نے سمجھا آج نہیں کل تیاری کریں گے۔کل آیا تو کہا پرسوں کر لیں گے یہاں تک کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جہاد کے لئے چل پڑے۔اُنہوں نے کہا اچھا کل چل پڑیں گے۔دوسرے دن کوئی سامان ملا اور کوئی نہ ملا اور ان کی روانگی تیسرے دن پر ملتوی ہو گئی۔تیسرے دن اُنہیں یکدم خبر ملی کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک منزل کی جگہ دو دو تین تین منزلیں طے کرتے ہوئے چلے جا رہے ہیں۔اور چونکہ اُس زمانہ میں اتنا لمبا سفر آسانی سے نہیں ہوسکتا تھا اس لئے محض اس اتکال نے کہ ہم تیاری کر لیں گے انہیں جہاد میں شریک ہونے سے محروم کر دیا مگر وہ غرباء جن کے پاس کچھ نہیں تھا وہ محض اپنے پاس کچھ نہ ہونے کی وجہ سے ہوشیار ہو گئے اور اپنی تیاری مکمل کر کے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ چل پڑے۔ان ہی میں سے بعض کے متعلق قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے