خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 324
خطابات شوری جلد دوم ۳۲۴ مجلس مشاورت ۱۹۳۸ء ابتلاؤں کا ذکر اور مامورِ زمانہ کا رویا تم ایک نبی کی جماعت ہو اور ضروری ہے کہ وہ تمام حالات تم پر گزریں جو پہلے انبیاء کی جماعتوں پر گزرے ہیں۔پس جب تک منہاج نبوت کے مطابق تم اپنی زندگیوں کو نہیں بدلو گے اُس وقت تک ان قربانیوں کی توفیق نہیں پاسکو گے۔پس سوال دس یا پندرہ فیصدی چندے کا نہیں بلکہ سوال پچاس یا سو فیصدی چندے کا بھی نہیں سوال یہ ہے کہ کیا آپ لوگ ایک نبی کی جماعت ہیں؟ اگر واقعہ میں آپ نبی کی جماعت ہیں تو یہ ایک یقینی اور قطعی امر ہے کہ جس طرح پہلے انبیاء کے مریدوں کو شہید کیا گیا اُسی طرح ہماری جماعت کے آدمیوں کو بھی شہید کیا جائے ، جس طرح پہلے لوگوں کو قید خانوں میں ڈالا گیا اُسی طرح ہمارے آدمیوں کو بھی قید خانوں میں ڈالا جائے ، جس طرح پہلوں کو آروں سے چیرا گیا، اُنہیں تلواروں سے قتل کیا گیا اور اُنہیں دُکھ دے دے کر مارا گیا اُسی طرح لوگ تمہیں بھی طرح طرح کے دکھ دے کر ماریں۔یہ وہ امور ہیں جن کا وقوع میں آنا ضروری ہے اور میں نے تمہیں کہا ہے کہ اگر تمہیں ان باتوں پر یقین نہیں آتا تو تم حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الہامات اور مکاشفات کا مطالعہ کرو۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام صاف طور پر فرماتے ہیں کہ میں نے رویا میں دیکھا کہ میں مصر کے دریائے نیل پر کھڑا ہوں اور میرے ساتھ بہت سے بنی اسرائیل ہیں اور میں اپنے آپ کو موسیٰ سمجھتا ہوں اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ہم بھاگے چلے آتے ہیں۔نظر اُٹھا کر پیچھے دیکھا تو معلوم ہوا کہ فرعون ایک لشکر کثیر کے ساتھ ہمارے تعاقب میں ہے اور اُس کے ساتھ بہت سامان مثل گھوڑے وگاڑیوں و رتھوں کے ہے اور وہ ہمارے بہت قریب آ گیا ہے۔میرے ساتھی بنی اسرائیل بہت گھبرائے ہوئے ہیں اور اکثر ان میں سے بے دل ہو گئے ہیں اور بلند آواز سے چلاتے ہیں کہ اوہ موسیٰ ہم پکڑے گئے تو میں نے بلند آواز سے کہا۔حلا اِن مي ربي سيهدينا اتنے میں میں بیدار ہو گیا اور زبان پر یہی الفاظ جاری تھے۔“ 66 بڑی قربانیوں کے لئے ذہنیت بناؤ پہ تمام باتیں جو خدا تعالیٰ کی طرف سے قبل از وقت بتا دی گئی ہیں رونما ہو کر رہیں گی۔پس جب تک ان چیزوں کو اپنے مدنظر نہ رکھا جائے حقیقی نیکی اور تقویٰ پیدا نہیں ہوسکتا۔ہم