خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 323 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 323

خطابات شوری جلد دوم ۳۲۳ مجلس مشاورت ۱۹۳۸ء بات پائی جائے گی۔یہ ایک صداقت ہے جسے خدا تعالیٰ نے اپنی تمام الہامی کتب میں زمانہ کی دست برد سے محفوظ رکھا اور اس لئے محفوظ رکھا تا آئندہ کوئی جماعت دھوکا نہ کھائے کہ وہ بغیر ان مشکلات میں سے گزرنے کے کامیاب و با مراد ہوسکتی ہے؟ یا یہ کہ یہ واقعات چند انبیاء کے ساتھ ہی مخصوص تھے ، سب انبیاء کے لئے ایسا ہونا ضروری نہیں۔پس خدا نے ان تکلیفوں اور دکھوں کے واقعات کو محفوظ رکھ کر بتایا ہے کہ غافل مت بنو اور یہ دھوکا نہ کھاؤ کہ حقیقی کامیابی مشکلات کے بغیر حاصل ہوسکتی ہے۔اور میں سمجھتا ہوں اس قدر وضاحت کے بعد اب ہمارے لئے کوئی عذر باقی نہیں۔جب ہم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو خدا تعالیٰ کا مامور سمجھتے ہیں اور اس بات پر صدق دل سے ایمان اور یقین رکھتے ہیں تو پھر اگر ہم یہ خیال کرتے ہیں کہ نبیوں کی جماعتوں والا معاملہ ہم سے نہیں ہوگا تو یقیناً ہم دُنیا کو بھی دھوکا دیتے ہیں اور خدا تعالیٰ کو بھی اور یقیناً دو میں سے ایک بات غلط تسلیم کرنی پڑے گی۔یا تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو ہمارا نبی قرار دینا غلط ہو گا اور یا پھر ہمارا یہ خیال غلط ہوگا کہ ہم بغیر مشکلات کے دُنیا پر غالب آ سکتے ہیں۔یہ بات تو کسی طرح درست نہیں ہو سکتی کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اللہ تعالیٰ کے نبی نہیں۔پس جب یہ بات درست نہیں تو لازماً ہمارا وہ خیال ہی غلط ہوگا کہ مشکلات کے بغیر کامیابی حاصل ہو سکتی ہے اور یقیناً یہ خیال غلط ہے۔قرآن مجید تمہارے سامنے موجود ہے تم اسے کھولو، اس میں صاف لکھا ہے کہ احسب النَّاسُ أَن يَتَرَكُوا أَن يَقُولُوا أمَتَارَهُمْ لا يُفتنون ) کیا یہ ممکن ہے کہ لوگ یہ تو کہیں کہ ہم خدا پر ایمان لاتے ہیں مگر ان کا امتحان نہ ہو؟ فرماتا ہے ایسا نہیں ہوسکتا اور یہ ممکن ہی نہیں کہ مومنوں کو خطرناک ابتلاؤں میں نہ گزرنا پڑے۔پس یہ مشکلات جو عارضی ہیں بے شک ان کو بھی اپنے سامنے رکھو مگر جو اصل مشکلات ہیں اُن کو مت بھولو۔یہ چیزیں کہ تم نے دس فیصدی کی بجائے پندرہ فیصدی چندہ دے دیا یا آنہ فی روپیہ کی بجائے پانچ پیسے فی روپیہ کے حساب سے مالی قربانی کر دی یہ صرف تمہیں بیدار رکھنے کے لئے ہیں۔ورنہ ان کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ انہی قربانیوں پر تمہاری ترقی کا انحصار ہے۔