خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 325
۳۲۵ خطابات شوری جلد دوم مجلس مشاورت ۱۹۳۸ء زیادہ سے زیادہ یہ کہہ دیا کرتے ہیں کہ ہم نے دس فیصدی کی بجائے پندرہ فیصدی چندہ دے دیا۔حالانکہ دس یا پندرہ فیصدی چندہ کیا میں کہتا ہوں سو فیصدی چندہ دینا بھی اُن قربانیوں کے مقابلہ میں کوئی حقیقت نہیں رکھتا جو نبیوں کی جماعتوں کو کرنی پڑتی ہیں۔بڑی غلطی یہ ہے کہ ہم اپنی موجودہ حالت پر تمام باتوں کا قیاس کرتے ہیں اور اس بات پر قیاس نہیں کرتے کہ ہم ایک نبی کی جماعت ہیں اور چونکہ اپنی موجودہ حالت کو دیکھتے ہوئے ہم خدا تعالیٰ کے فیصلہ کو نہیں دیکھتے اس لئے ہمارے اندر ابھی تک وہ ذہنیت پیدا نہیں ہوئی جس کا پیدا کرنا اسلام کا منشاء ہے۔میں یہ نہیں کہتا کہ آپ لوگ ابھی بدل جائیں اور وہ قربانیاں کرنے لگ جائیں جو انتہائی قربانیاں ہیں۔چنانچہ کئی نادان ہیں جو کہہ دیا کرتے ہیں کہ جب اس قسم کی قربانیوں کے بغیر قومی ترقی نہیں ہوتی تو کیوں ابھی سے ان قربانیوں کا مطالبہ نہیں کیا جاتا۔حالانکہ میں جو کچھ کہتا ہوں اس کا مطلب یہ ہے کہ اپنی ذہنیت کو اس رنگ میں تبدیل کرو تا جس وقت بھی ان قربانیوں کی ضرورت پیش آئے جماعت خوشی اور بشاشت کے ساتھ وہ قربانیاں کرنے کے لئے تیار ہو۔میں نے اپنی ذہنیت اس رنگ میں بدل لی ہے اور میں آپ لوگوں کو بھی ذہنیت بدلنے کے لئے یہی کہتا ہوں۔یہ نہیں کہتا کہ وہ ابھی اپنی تمام جائدادیں چھوڑ دیں۔اگر میں یہ کہتا کہ اپنی جائیدادوں سے الگ ہو جاؤ تو سے پہلے میں اپنی جائداد کو چھوڑ کر الگ ہو جاتا۔پس اگر یہ ان قربانیوں کا موقع ہوتا تو سب سے پہلے میں خود ان قربانیوں کو کر کے دکھاتا۔جیسا کہ ۱۹۲۲ء یا ۱۹۲۳ء میں جب جماعت پر سخت تنگی کا وقت آیا تھا تو میں نے ارادہ کر لیا تھا کہ میں اپنی سب جائداد سلسلہ کے سپرد کر دوں اور دوسرے دوستوں میں بھی تحریک کروں۔چنانچہ میں نے بعض دوستوں سے ذکر کیا تو سات اور دوستوں نے بھی اس قسم کی قربانی کے لئے اپنے آپ کو پیش کر دیا۔پس اگر اس قسم کا کوئی موقع آئے تو سب سے پہلے میرا حق ہے کہ میں اُس پر عمل کروں لیکن اس وقت جو میرا سوال ہے وہ ذہنیت کو تبدیل کرنے کا ہے۔اور میں جو کچھ کہہ رہا ہوں وہ یہ ہے کہ جماعت میں وہ ابھی ذہنیت پیدا نہیں ہوئی جس کے نتیجہ میں ہر قسم کی قربانیاں آسان معلوم ہوتی ہیں۔