خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 17
خطابات شوری جلد دوم ۱۷ مجلس مشاورت ۱۹۳۶ء کے منہ سے نکلی یا آپ کے بعد آپ کے خلفاء کے منہ سے نکلی اُس کو وہی عظمت دیتی جس کی وہ مستحق ہے۔مگر بہت سے افراد ایسے ہیں جو ہمارے خطبات اور لیکچروں اور تقریروں کو مزے لے لے کر سنتے اور پڑھتے ہیں۔وہ بھی ہیں جو ان سے متائثر بھی ہو جاتے ہیں اور وہ بھی ہیں جو تعریفیں کرنے لگ جاتے ہیں مگر عمل کرنے کے وقت ان سے ایسے گزر جاتے ہیں جیسے ہندو سردی کے موسم میں نہاتے وقت گڑوی سے پانی پیچھے گرا دیتے ہیں اور خود آگے نکل جاتے ہیں مگر ایسی بات کا کیا نتیجہ ہو سکتا ہے۔جب تک لوگ ہماری ہدائیتیں نہ سمجھیں اور اُن پر عمل نہ کریں اُس وقت تک ان کو کیا فائدہ پہنچ سکتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام جو تعلیم لائے ، وہ اپنے ماننے والوں کے عمل کرنے کے لئے لائے اور جن لوگوں نے آپ کو قبول کیا انہوں نے اقرار کیا کہ ہم آپ کی تعلیم پر عمل کریں گے، پھر خلفاء کی احمد یہ جماعت نے اِس لئے بیعت کی کہ وہ جو کہیں گے اُس پر عمل کریں گے۔پس اُس وقت تک نیک نتیجہ نہیں نکل سکتا جب تک عمل نہ کیا جائے۔اب نبوت کا زمانہ تو گزر گیا اور خلافت کا زمانہ ہے لیکن اگر خلافت کی حقیقت کو بھی سمجھ لیں تو بہت لوگوں کو اپنی اصلاح کی توفیق مل جائے گی مگر اس طرف توجہ بہت کم پائی جاتی ہے۔بیشک جماعت میں خلافت کی عظمت ، اس کا احترام اور اس کا ادب موجود ہے مگر وہ جذباتی ہے عملی نہیں۔میں یہ تسلیم کرتا ہوں کہ جو محبت جماعت احمدیہ کو اپنے امام سے اس وقت ہے اس کی مثال کسی اور جگہ ملنا ممکن نہیں۔مگر باوجود اس کے میں یہ کہنے سے نہیں رک سکتا کہ وہ جذباتی ہے عملی نہیں۔ایسے کم لوگ ہیں جو اس محبت کو اِس طرح محسوس کریں کہ جو لفظ بھی خلیفہ کے منہ سے نکلے وہ عمل کئے بغیر نہیں چھوڑنا۔بہت لوگ ہیں جو یہ کہتے ہیں کہ خلیفہ کی ہدایات پر عمل کرنا خوش قسمت لوگوں کا کام ہے ہم اس قابل کہاں کہ ان پر عمل کر سکیں حالانکہ ایسا کہنے والے ہزار میں سے ۹۹۹ ایسے ہوتے ہیں جو عمل کر سکتے ہیں بشرطیکہ عمل کرنا چاہیں مگر کہہ دیتے ہیں کہ ہم عمل نہیں کر سکتے ، یہ ان کے نفس کا دھوکا ہوتا ہے۔چونکہ ان کی محبت جذباتی ہوتی ہے عملی نہیں ہوتی اس لئے وہ عمل نہیں کرتے۔ان کی مثال بالکل اُس شخص کی سی ہے جو حنفی کہلاتا تھا مگر شیخ عبدالقادر صاحب جیلانی سے بڑی عقیدت ظاہر کیا کرتا تھا اُسے کسی نے کہا وہ تو حنبلی تھے۔یہ سُن کر وہ کہنے لگا یہ ایمان کا معاملہ ہے اُن کا مذہب اور ہمارا اور۔گویا