خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 18 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 18

خطابات شوری جلد دوم > IA مجلس مشاورت ۱۹۳۶ء لوگ منہ سے نہیں کہتے مگر عمل سے یہی کہتے ہیں کہ خلیفہ کا مذہب اور ہے اور ہمارا مذہب اور۔ایسی حالت میں نیک نتائج کہاں سے نکلیں۔پھر اس وقت ہماری جماعت کے لئے تو زمانہ قُرب نبوت اور موعود خلافت خلافت کا ہی سوال نہیں دو اور سوال بھی ہیں۔ނ ایک قرب زمانہ نبوت کا سوال اور دوسرا موعود خلافت کا سوال۔یہ دونوں باتیں ایسی ہیں جو ہر خلیفہ کے ماننے والے کو نہیں مل سکتیں۔آج سے سو دوسو سال بعد بیعت کرنے والوں کو یہ باتیں حاصل نہیں ہو سکیں گی۔اُس زمانہ کے عوام تو الگ رہے خلفاء بھی اس بات کے محتاج ہوں گے کہ ہمارے قول، ہمارے عمل اور ہمارے ارشاد سے ہدایت حاصل کریں۔ہماری بات تو الگ رہی وہ اس بات کے محتاج ہوں گے کہ آپ لوگوں کے قول، آپ لوگوں کے عمل اور آپ لوگوں کے ارشاد سے ہدایت حاصل کریں۔وہ خلفاء ہوں گے مگر کہیں گے کہ زید نے فلاں خلافت کے زمانہ میں یوں کیا تھا، ہمیں بھی اس پر عمل کرنا چاہئے۔پس یہ صرف خلافت اور نظام کا ہی سوال نہیں بلکہ ایسا سوال ہے جو مذہب کا سوال ہے۔پھر صرف خلافت کا سوال نہیں بلکہ ایسی خلافت کا سوال ہے جو موعود خلافت ہے۔الہام اور وحی سے قائم ہونے والی خلافت کا سوال ہے۔ایک خلافت تو یہ ہوتی ہے کہ خدا تعالیٰ لوگوں۔خلیفہ منتخب کراتا ہے اور پھر اُسے قبول کر لیتا ہے مگر یہ ویسی خلافت نہیں۔یعنی میں اس لئے خلیفہ نہیں کہ حضرت خلیفہ اول کی وفات کے دوسرے دن جماعت احمدیہ کے لوگوں نے جمع ہو کر میری خلافت پر اتفاق کیا بلکہ اس لئے بھی خلیفہ ہوں کہ حضرت خلیفہ اول کی خلافت سے بھی پہلے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے خدا تعالیٰ کے الہام سے فرمایا تھا کہ میں خلیفہ ہوں گا۔پس میں خلیفہ نہیں بلکہ موعود خلیفہ ہوں۔میں مامور نہیں مگر میری آواز خدا تعالی کی آواز ہے کہ خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعہ اس کی خبر دی تھی۔گویا اس خلافت کا مقام ماموریت اور خلافت کے درمیان کا مقام ہے اور یہ موقع ایسا نہیں ہے کہ جماعت احمد یہ اسے رائگاں جانے دے اور پھر خدا تعالیٰ کے حضور سرخرو ہو جائے۔جس طرح یہ بات درست ہے کہ نبی روز روز نہیں آتے اسی طرح یہ بھی درست ہے کہ موعود خلیفے بھی روز روز نہیں آتے۔پھر یہ کہنے کا موقع کہ فلاں بات ہم سے