خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 16 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 16

خطابات شوری جلد دوم 17 مجلس مشاورت ۱۹۳۶ء یہ تو کہا جا سکتا ہے کہ وہ اپنی جماعت کی کمزوریوں کی پردہ پوشی کرے مگر یہ نہیں کہا جا سکتا کہ وہ اپنی جماعت کی طرف خواہ مخواہ کمزوریاں منسوب کرے۔پس جہاں تک میرا خیال ہے ہماری جماعت کے تمام لوگ ابھی تک اس ذمہ داری کو نہیں سمجھے جو ان پر عائد ہوتی ہے اور تمام لوگوں نے مذہب کی اس حقیقت کو نہیں سمجھا جس کا سمجھنا ان کے لئے ضروری ہے۔بہت لوگ چند مسائل کو سمجھ کر احمدی ہو گئے ہیں۔کئی ایسے ہیں جنہوں نے وفات مسیح کے مسئلہ کو سمجھا اور احمدیت میں داخل ہو گئے، کئی ایسے ہیں جنہوں نے جماعت احمدیہ کی اسلامی خدمات کو دیکھا اور جماعت میں داخل ہو گئے ، کئی ایسے ہیں جنہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ ظاہر ہونے والے نشانات کو دیکھا اور احمدی ہو گئے گویا ان کی چھوٹی چھوٹی بیماریاں تو دُور ہوگئیں مگر بڑی قائم رہیں جو دین سے بے توجہی کی بیماری ہے۔ان پر فالج کے جو ابتدائی حملے ہوئے تھے اُن کا تو علاج ہو گیا اور اس سے اُنہوں نے سمجھ لیا کہ احمدیت سچی ہے مگر ان کے اندر جو مرض تھا اور جس کی وجہ سے ان کی دین کے متعلق جس مٹ گئی تھی ، اس کی طرف انہوں نے توجہ نہیں کی اور ہو سکتا ہے کہ اگر اس کی طرف توجہ دلائی جائے تو کہہ دیں کہ یہ تنگ دلی ہے، اس سے اسلام کا کیا تعلق ہے۔یہاں ہی ایک دفعہ ایک بھائی نے کہا تھا کہ داڑھی منڈانے کا اسلام سے کیا تعلق ہے اور داڑھی نہ منڈانے پر زور دینا تنگ دلی ہے۔پس پہلی چیز جو سب سے زیادہ ضروری ہے وہ یہ ہے کہ اپنے آپ کو اسلام کا پابند بنائیں، ہر ایک اسلامی حکم کی اہمیت کو سمجھیں لیکن اگر ہم خود اسلامی احکام کی پابندی نہیں کرتے تو کیونکر ممکن ہے کہ دوسروں کو ان کے پابند بنا سکیں۔صرف منہ سے کہہ دینے سے کوئی کام نہیں ہو جایا کرتا اور ہمارا صرف منہ سے کہہ دینا کہ ہم اسلامی احکام کے پابند ہیں کافی نہیں ہے۔سوال یہ ہے کہ کیا ہمارے اندر وہ حقیقت پیدا ہوگئی ہے جو اسلام پیدا کرنا چاہتا ہے؟ اگر نہیں تو پھر ہمارے تمام مشورے اور ہماری تمام تجاویز رائگاں جائیں گی۔صرف جذباتی محبت کافی نہیں عملی محبت دکھاؤ میرے نزدیک اگر ہماری جماعت اس اہمیت کو سمجھ لیتی کہ اسلام کیا ہے اور احمدیت کی غرض کیا ہے تو پھر ضروری تھا کہ ایک ایک بات جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام