خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 294 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 294

خطابات شوری جلد دوم ۲۹۴ مجلس مشاورت ۱۹۳۸ء جاتا۔جب جنرل HAUG کو اس کا علم ہوا تو اُس نے ایک ماتحت جرنیل کو جو شاید آسٹیرین یا کینیڈین تھا بُلایا اور کہا کہ ایسا ایسا واقعہ ہو گیا ہے۔ہمارے پاس اس وقت فوج نہیں جو اس خلاء کو پورا کر سکے۔میں یہ کام تمہارے سپرد کرتا ہوں کہ جس طرح بھی ہو سکے انتظام کرو کہ یہ خلا پُر ہو جائے۔چنانچہ وہ جرنیل موٹر میں بیٹھا اور دھوبیوں اور باورچیوں اور دوسرے ملازموں سے جو فوج کے پیچھے کام کرتے ہیں جا کر کہا کہ تم لوگ ہمیشہ جنگ میں شریک ہونے کی خواہش کیا کرتے ہو۔آج تمہارے لئے بھی حو صلے نکالنے کا موقع آ گیا ہے۔جو ہتھیار جس کے ہاتھ میں آئے لے لو اور چلو۔بعض کو بندوق چلانی آتی تھی انہیں تو بندوقیں دے دی گئیں مگر دوسروں نے گدالیں اور پھاوڑے وغیرہ لے لئے۔بعض نے کفگیر ہی اُٹھائے اور چار پانچ گھنٹے اُس خلا کو پُر کئے رکھا اور دشمن کو یہ خیال بھی نہ ہوا کہ یہاں کوئی فوج نہیں ہے حتی کہ پیچھے سے ٹمک آگئی۔اس طرح گزشتہ تحریک کے موقع پر میں نے بعض ایسے مبلغ بھی لئے تھے جو ہر گز اس ذمہ واری کو اُٹھانے کے قابل نہ تھے لیکن ہم نے کہا کہ جاؤ اور صرف اتنا کہہ دو کہ مسیح آ گیا اور اس بات میں اُن کی طرف سے غلطی کا کیا امکان ہو سکتا تھا۔گو اُن میں سے بعض نے غلط مسائل بھی بیان کر دیئے اور بعد میں ہمیں سنبھالنا پڑا مگر اب وہ حالات بدل رہے ہیں۔مبلغین کی ذمہ داریاں سالہا سال کے غور کے بعد میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ ملغ بننا بڑی ذمہ واری ہے۔مبلغ پیدا نہیں کیا جا سکتا بلکہ وہ پیدا۔ہوتا ہے۔یہ خیال کہ کوئی کالج مبلغ پیدا کر سکتا ہے بالکل غلط ہے۔مبلغ وہ ہے جس کے دل کی ایمان کی حالت انبیاء کے ایمان کی مثل ہو اور ظاہر ہے کہ یہ چیز خدا کی دین ہے ہم کسی کے اندر سے پیدا نہیں کر سکتے۔یہ خیال کرنا کہ قدوری یا ہدا یہ یا تفسیریں پڑھنے سے یہ بات پیدا ہو سکتی ہے بالکل غلط ہے۔کتابیں پڑھ کر ایک شخص عالم تو بن سکتا ہے مگر مبلغ نہیں۔مبلغ کے حقیقی انتخاب کا وقت وہ ہوتا ہے جب اُس کی فطرت کی گہرائیوں کا اندازہ ہو جائے، اُس کے جو ہر ظاہر ہو جائیں اور اُس کا ایمان آزمائشوں کی بھٹی میں پڑ چکا ہو۔میں مانتا ہوں کہ دینی تعلیم کا انتظام بھی ضروری ہے لیکن مدرسہ میں پڑھنے کے وقت تو طالب علم کو خود بھی اپنے جوہر کا علم نہیں ہوتا۔پس تعلیم دینی کا انتظام تو ہونا چاہئے لیکن یہ ضروری نہیں کہ