خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 295
خطابات شوری جلد دوم ۲۹۵ مجلس مشاورت ۱۹۳۸ء تعلیم حاصل کرنے والوں کو مبلغ بنا دیا جائے۔صحابہ کے زمانہ میں یہ سہولت تھی کہ اُن کا دین بھی عربی زبان میں تھا اور اُن کی اپنی زبان بھی یہی تھی مگر ہمارے لئے یہ وقت ہے کہ دین تو عربی میں ہے مگر زبان اردو ہے اس لئے وہ ساری قوم میں سے مبلغین انتخاب کر سکتے تھے مگر ہم ایسا نہیں کر سکتے اس لئے ضروری ہے کہ اس مدرسہ کو جاری رکھا جائے تا انتخار کے لئے میدان موجود رہے۔اس کے ساتھ میں نے تجویز کی ہے کہ ان لوگوں کے لئے ایسا انتظام بھی ہونا چاہئے کہ وہ تعلیم سے فارغ ہونے کے بعد اپنے گزارہ کی صورت بھی نکال سکیں۔ہم انہیں ملک کے مختلف گوشوں میں پھیلا دیں اور وہ اپنا گزارہ کریں اور ساتھ ساتھ تبلیغ بھی کرتے رہیں اور جب یہ ثابت کر دیں کہ ان کے دل میں جوش ہے، ان پر وہی مثال صادق آتی ہے کہ دست در کار دل بایار “ اور دین کی اشاعت کے لئے ان کے دل میں تڑپ ہے تو پھر انہیں بلا کر تبلیغ کے کام پر لگایا دیا جائے۔وہ خواہ باہر جا کر کوئی پیشہ اختیار کریں تب بھی ہمیں یہ پتہ لگ سکتا ہے کہ وہ مبلغ بن سکتے ہیں یا نہیں۔جماعت کے بعض دکاندار اور بعض ملازم پیشہ دوست بھی تبلیغ کرتے ہیں اور ایسے لوگوں کو تبلیغ کرنے والوں سے کم کام نہیں کرنا پڑتا۔دونوں اُتنا ہی وقت دفتر میں یا دکان میں کام کرتے ہیں۔فرق صرف یہ ہے کہ جس کے دل میں شوق ہوتا ہے وہ دفتر سے فارغ ہو کر تبلیغ کے لئے نکل جاتا ہے اور جسے شوق نہیں ہوتا وہ گھر جا کر لیٹ جاتا ہے۔غرض اپنا اپنا کام کرنے والوں کی نسبت بھی آسانی سے پتہ لگ سکتا ہے کہ کسے تبلیغ کا شوق ہے اور کسے نہیں۔اور اس طرح بیسیوں آزمودہ مبلغوں میں سے کسی کا پورے وقت کا مبلغ بنانے کے لئے انتخاب کیا جا سکتا ہے۔اور ایسا انتخاب یقیناً با برکت ہوگا۔پس بہتر طریق یہ ہے کہ علماء کو پیشے سکھا کر باہر بھیج دیا جائے کہ اپنا اپنا کام کریں اور پھر دیکھا جائے کہ وہ دین کے کام میں لگے ہوئے ہیں یا نہیں اور اپنے عمل سے ثابت کرتے ہیں یا نہیں کہ ان کے دل میں اللہ تعالیٰ اور اُس کے دین کی محبت ہے۔اس طرح انہوں نے علم تو پہلے سیکھا ہوا ہو گا اور ایمان کا ثبوت اپنے عمل سے دے دیں گے۔ایسے لوگ مبلغ بنائے جائیں گے تو وہ بہترین مبلغ ثابت ہوں گے۔اب بھی بعض وہ علماء جو باہر سے بطور مبلغ لئے ہوئے ہیں نسبتا زیادہ بہتر ہیں۔مثلاً