خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 293
خطابات شوری جلد دوم ۲۹۳ مجلس مشاورت ۱۹۳۸ء ایسی قوم کو جس میں ایسے نوجوان ہوں ماردینا ناممکن ہوتا ہے، چنانچہ ہم نے یہ دکھا دیا۔بعض نوجوان برائے نام گزارے لے کر اور بعض یونہی باہر چلے گئے اور اس طرح ہمارا خرچ بارہ مشنوں پر قریباً ایک مشن کے خرچ کے برابر ہے۔لیکن جب وہ زمانہ گزر گیا اور جب ہم نے یہ بتا دیا کہ ہمارے پاس ایسے نوجوان ہیں جو ہر وقت لبیک کہنے پر آمادہ ہیں تو اس کے بعد اب دوسرا انتخاب کیا جاتا ہے۔باقاعدہ تعلیم دی جاتی ہے زیادہ معتین قانون بنا دیئے گئے ہیں اور اب ہمیں ایسے نوجوان مل رہے ہیں۔پس اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے تبلیغ میں کمی نہیں ہوئی بلکہ صرف طریق تبدیل کیا گیا ہے اور زیادہ خرچ والا طریق چھوڑ کر کم خرچ والا اختیار کیا گیا ہے۔وقف کرنے والے نو جوانوں سے کام لیا جا رہا ہے۔میں نے دیکھا ہے بعض لوگ وقف کا صحیح مفہوم بھی نہیں سمجھتے۔وہ اپنے چھوٹے بچوں کو جو دین کے نام سے بھی ناواقف ہوتے ہیں لے آتے ہیں کہ ہم اسے وقف کرتے ہیں اور میں کہہ دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ آپ کی نیت کا آپ کو بدلہ دے اور لڑکے کو توفیق دے کہ بڑا ہو کر آپ کے خیالات سے اتفاق کرنے والا ہو اور یہ وقف کی رسم ختم ہو جاتی ہے۔لیکن بعض لوگ غربت کو دین کا جامہ پہنانا چاہتے ہیں وہ محض اس لئے وقف کا لفظ استعمال کرتے ہیں کہ لڑکے کی تعلیم کا انتظام ہو جائے۔میں جب کہتا ہوں کہ اچھا ہم اسے کسی کام پر لگا لیتے ہیں تو کہتے ہیں کہ نہیں جی ہم نے تو سمجھا تھا کہ یہ پڑھے گا۔تو اُن کی اصل غرض تعلیم دلانا ہوتی ہے مگر نام وقف کا لیتے ہیں اور ظاہر ہے کہ ایسے لڑکوں پر مبلغین کے انتخاب کو حاوی کرنا نقصان دہ امر ہے۔ایک وقت ہم مجبور تھے کہ ایسے مبلغ لیں۔چنانچہ تین سال پہلے ہم نے لئے مگر آج نہیں لے سکتے۔جنگ عظیم کے دنوں میں رنگروٹوں کو صرف دو ماہ کی ٹریننگ کے بعد آگے بھیج دیا جاتا تھا حالانکہ عام حالات میں یہ عرصہ دو سال کا ہوتا ہے۔اُس وقت صرف یہ دیکھا جاتا ہے کہ اُسے بندوق کندھے پر رکھنا آتی ہو اور وہ ڈرے نہیں اور یہ اس لئے کیا جاتا تھا کہ میدان خالی نہ رہے۔میں نے جنگ عظیم کے متعلق پڑھا ہے کہ ایک موقع ایسا آ گیا تھا کہ سات میل کا رقبہ بالکل خالی ہو گیا تھا۔اس موقع میں انگریزی فوج کے آدمی یا تو شکست کھا کر ہٹ چکے تھے اور یا مارے جاچکے تھے۔اگر جرمن افواج کو اس کا علم ہو جاتا تو جنگ کا نقشہ بالکل بدل