خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 273 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 273

خطابات شوری جلد دوم ۲۷۳ مجلس مشاورت ۱۹۳۸ء قابلیت ہو اور نہ ہی کلو کا کوئی خیال ہو بلکہ محض اس لئے کہ فلاں مخلص چار پانچ ہزار ایکٹر زمین کا مالک ہے اور بی۔اے تک تعلیم یافتہ ہے، اس سے رشتہ کی خواہش کرنا محض حرص اور لالچ ہے اور قومی گراوٹ پر دلالت کرتا ہے۔میں نے اس کا نام اُمنگ رکھا ہے، کیونکہ میں نہیں سمجھ سکتا کہ اس قدر گراوٹ ہماری جماعت کے احباب میں ہے۔لیکن ممکن ہے کہ لڑکی والا کہے کہ احمدیوں میں تو مساوات ہے تو میں کہوں گا بے شک۔لڑکے کو چاہئے کہ اس بات کا خیال کرے، لڑکی والوں کو تو ایسا نہیں چاہئے۔دیکھو! ایک طرف شریعت کہتی ہے کہ اپنا مال دو اور دوسری طرف کہتی ہے لا تمدن عينيك إلى مَا مَتَّعْنَاية أَزْوَاجًا مِنْهُمْ ، گویا مال والوں کو تو یہ حکم دیا کہ مال خرچ کرو اور محتاجوں کو ارشاد فرمایا کہ اس کی طرف آنکھ اُٹھا کر بھی نہ دیکھو۔اسی طرح شادی کے بارہ میں مال وغیرہ کے ملحوظ رکھنے کا کوئی حکم نہیں بلکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا عَلَيْكَ بِذَاتِ الدِّينِ تَرِبَتْ يَدَاكَہ یعنی اے مومن! تیرا کام یہ نہیں کہ دیکھے کہ بیوی حسب نسب والی یا مال دار یا صاحب جمال ہے بلکہ اگر حسب نسب والا خدا نے تجھے بنایا ہے تو تجھے اس جھگڑا میں پڑنے کی ضرورت نہیں کہ بیوی حسب نسب والی نہیں۔اولا د تو باپ کی طرف ہی منسوب ہوگی یا اگر بیوی مالدار یا صاحب جمال نہیں ہے تو تیرے لئے یہ حکم ہے کہ تو اپنے مال اور جمال پر قناعت کر۔اور ارشادفرمایا کہ تیرا یہ کام ہے که تو ذات الدین بیوی کی تلاش کرے۔شریعت تو کہتی ہے کہ اگر کوئی غریب ہو کر سائل بنتا ہے تو وہ مردود ہے۔اور اگر کوئی مال دار ہو کر بخل کرتا ہے اور اپنے بھائی کو فائدہ نہیں پہنچانا چاہتا تو وہ بھی مردود ہے۔وہ نیکی خدا نے اس کے لئے فرمائی ہے اور یہ حکم تیرے لئے۔غرض یہ مساوات کی نصیحت تو لڑکے والوں کو تھی نہ کہ لڑکی والوں کو۔پس یقیناً یہ مرض جماعت میں موجود ہے اور جماعت کے احباب کو چاہئے کہ اس نقص کی اصلاح کی طرف توجہ کریں۔رشتہ میں کفو کی اہمیت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بعض ایسے رشتوں کو روک دیا تھا کہ جو مناسبت نہ رکھتے تھے اور فرمایا کہ کفو اور مناسبت کو دیکھ کر رشتے کئے جائیں اس لئے ہماری جماعت کو اس بات کی طرف توجہ کرنی