خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 274 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 274

خطابات شوری جلد دوم ۲۷۴ مجلس مشاورت ۱۹۳۸ء چاہئے اور لڑکوں میں یہ بات پیدا کرنی چاہئے کہ رشتہ کا تلاش کرنا ان کے ذمہ ہے نہ کہ لڑکی والوں کے اور رشتہ تلاش کرتے وقت وہ ذاتِ الدین کو ترجیح دیں۔پس ہمارے دوستوں کو اس بات کی طرف خاص توجہ کرنی چاہئے۔میں احباب کو اس امر کی طرف بھی توجہ دلانی چاہتا ہوں کہ انہوں نے اپنی تربیت اولاد لڑکیوں میں کوئی خوبی بھی پیدا کی ہے یا نہیں۔جن لوگوں کو خدا نے حیثیت دی ہے، انہیں چاہئے کہ وہ اپنے بچوں کی اچھے رنگ میں تعلیم و تربیت کریں۔قادیان کے بعض اولین کی اولاد کی تربیت خراب ہے۔اگر غرباء اپنی اولاد کی اچھی تربیت کرتے ہیں تو وہ زیادہ مستحق ہیں کہ ان کی طرف توجہ کی جائے۔ایک دوست نے کہا ہے کہ لڑکیاں زیادہ قابل ہیں اور لڑ کے اس قدر قابل نہیں ، اس لئے لڑکوں میں قابلیت پیدا کرنی چاہئے مگر یہ خیال غلط ہے۔لڑ کے قابل ہیں لیکن لڑکیوں کی تعلیم کی زیادہ قیمت لگائی جاتی ہے اور ان کی معمولی تعلیم کو بھی بہت بڑی تعلیم سمجھ لیا جاتا ہے۔مثلاً لڑکا اگر میٹرک پاس ہو تو کوئی توجہ نہیں کرتا اور نہ اسے کوئی اہمیت دی جاتی ہے۔اگر لڑ کی میٹرک پاس ہو تو اُسے کہتے ہیں کہ بہت لائق ہو گئی ہے اور اگر ایف۔اے یا بی۔اے ہو جائے تو پھر اس کی لیاقت کا کوئی حساب ہی نہیں رہتا۔ایک شخص کو ابھی جماعت سے خارج کیا گیا ہے اُن کو لڑکیاں پڑھانے کا شوق تھا۔جب انٹرنس پاس کیا تو مجھ سے مشورہ کرنے آئے۔میں نے انہیں مشورہ دیا کہ زیادہ تعلیم کی وجہ سے پھر رشتوں میں دقت پیدا ہو گی۔مگر اُنہوں نے تعلیم کو جاری رکھا اور ایف۔اے اور ایف۔اے کے بعد بی۔اے اور ساتھ ہی رشتے کی تلاش کرتے رہے مگر جب پہلے کوئی رشتہ انہیں پسند نہیں آتا تھا تو اب زیادہ تعلیم کی صورت میں کیونکر پسند آ سکتا تھا۔اب لازماً ان لوگوں کو کسی ولایت پاس شدہ کی تلاش پیدا ہوئی۔انہی کے متعلق میں نے ایک خطبہ بھی پڑھا تھا اور اس میں توجہ دلائی تھی کہ ہر ولایت سے آنے والے کو احمدی بنالینا میرے بس کی بات نہیں اور نہ میں یہ کر سکتا ہوں کہ اپنے خرچ پر ولایت میں تعلیم حاصل کرنے کے لئے لڑ کے بھیجوں۔اس کے بعد ان کی بیوی میرے پاس آئی اور اُس نے کہا کہ آپ تو ہمیں کوئی رشتہ تلاش کر کے دیتے نہیں پھر ہمیں مجبوراً غیر احمدیوں کے ساتھ شادی کرنی پڑے گی۔میں نے کہا کہ میں نے تو