خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 272
خطابات شوری جلد دوم ۲۷۲ مجلس مشاورت ۱۹۳۸ء گئی تو غیر احمدی ہمارے لائق لڑکوں کو لے جائیں گے جس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ پڑھے لکھے لڑکے غیروں میں چلے جائیں گے۔اگر ایسا ہوا کہ تعلیم یافتہ لڑ کے باہر چلے گئے تو یہ افسوسناک بات ہوگی اس لئے یہ امر بھی قابل غور ہے۔بعض دوستوں نے کہا ہے کہ اگر ہم غیر احمدی لڑکیاں لیں گے اور اس کی اجازت ہو جائے گی تو پھر ان کو احمدی لڑکیاں دینی بھی پڑیں گی اور کمزور طبقہ ایسا کر دے گا۔ایسی مثالیں ہماری جماعت میں پائی جاتی ہیں کیونکہ وہ پہلے غیر احمدیوں سے لڑکیاں لے چکے ہوتے ہیں پھر وہ غیر احمدی ان سے مطالبہ کرتے ہیں۔ایک بات جو بار بار دہرائی گئی ہے کہ احمدی غریب لڑکوں کو لڑکیاں نہیں ملتیں۔یہ عام شکایت ہے۔مجھ پر بھی یہی اثر ہے کہ بوجہ خیالات میں بلندی پیدا ہونے کے اور احساس زیادہ ہونے کے ہر شخص یہی چاہتا ہے کہ مجھے اعلیٰ درجہ کا رشتہ مل جائے۔میں امید کرتا ہوں کہ میرے وہ عزیز دوست اگر میں اُن کا ذکر کروں تو بُرا نہیں منائیں گے۔وہ دوست ہماری جماعت میں داخل ہوئے ہیں۔چار پانچ ہزار ایکٹر زمین کے مالک ہیں اور بی۔اے ہیں اور اگر چہ وہ اتنے مالدار نہیں جتنا کہ خیال کیا گیا ہے۔اُنہوں نے اپنے رشتہ کا فیصلہ میرے سپرد کیا ہوا ہے۔میں نے دیکھا ہے کہ ان کے لئے ہفتہ میں دو تین خط آ جاتے ہیں اور پچھلے چند ماہ میں کوئی ساٹھ ستر رشتے ان کے متعلق آچکے ہیں حالانکہ بعض رشتہ پیش کرنے والے دوست ایسے نہیں کہ ان کے ساتھ ان کا کوئی جوڑ ہو یا کفو ہو محض اس لئے کہ چار پانچ ہزار ایکٹر زمین کے مالک ہیں ان کے ساتھ رشتہ کرنا چاہتے ہیں۔میں ایسے لوگوں کو یہی جواب دیتا ہوں کہ آپ ان سے کہیں جب وہ مجھ سے کہیں گے تو غور ہو سکے گا۔تھوڑے دن ہوئے ایک شخص آیا اور اس نے ان کے لئے رشتہ پیش کیا میں نے وہی جواب دے دیا۔اس پر اس نے کہا کہ آپ سفارش تو کر دیں۔میں نے کہا کہ اگر میں سفارش کرنے لگتا تو اس وقت سفارش کر کے شریعت کی حدود سے زیادہ رشتے کرا دیتا۔میں نہیں کہہ سکتا کہ غیر احمدیوں میں یہ خیال ہو لیکن یہاں ہماری جماعت میں بلندی خیال کی وجہ سے ایسا ہے اور یہ خیال کہ لڑکی والا آئے اور کہے کہ میری لڑکی لے لو، نہ تو اس میں کوئی