خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 271 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 271

خطابات شوری جلد دوم ۲۷۱ مجلس مشاورت ۱۹۳۸ء ہی ایک مہمان عورت نے آکر میری بیوی کو سُنایا کہ جب احمدیوں میں میری شادی ہو گئی تو میرے رشتہ داروں نے کہا کہ اپنے خاوند کو پھسلانا۔میرا بھی یہی خیال تھا کہ جب موقع ملے ایسا کروں۔ظاہراً تو خاوند کے کہنے پر میں نے بیعت کر لی لیکن میرے دل کی کیفیت اسی طرف مائل تھی اور ہر موقع پر میں نے یہی کوشش کی کہ کسی طرح اپنے خاوند کو بھی اپنے ساتھ ملا لوں۔وقت گزرتا گیا مگر مجھے اس میں کامیابی نہ ہوئی حتی کہ وہ دن آن پہنچا کہ ہمارا نوجوان بیٹا جس کے ساتھ ہماری امیدیں وابستہ تھیں فوت ہو گیا۔ہماری رشتہ دار عورتیں تعزیت کے لئے آئیں اور کہنے لگیں کہ دیکھا ! تمہارے احمدی ہونے کی وجہ سے یہ لڑکا فوت ہو گیا ہے اگر تو احمدی نہ ہوتی تو یہ فوت نہ ہوتا۔مگر میں بجھتی تھی کہ میں نے تو صرف ظاہراً بیعت کی ہوئی تھی اور دل میں پکی غیر احمدی تھی اس لئے مجھے یہ سزا خدا کی طرف سے ملی ہے اس لئے میں نے اُن سے اُسی وقت کہا کہ جاؤ! میں آج سے پختہ احمدی ہوں۔غرض یہ امر بطور دلیل پیش نہیں کیا جا سکتا۔حقیقت یہ ہے کہ جب یہ دلیل بیان کی جا رہی تھی خود میری طبیعت کا رُجحان بھی اس طرف ہو جا تا تھا۔گو میں مشورہ سے قبل کوئی فیصلہ نہیں کرتا اور میں نے بار ہا دوستوں کے سامنے بیان کیا ہے کہ جب میں مشورہ کے لئے بیٹھتا ہوں تو بالکل خالی الذہن ہو کر بیٹھتا ہوں کیونکہ پہلے ہی اگر ایک فیصلہ کر لیا جائے تو مشورہ بے معنی ہو جاتا ہے۔بلکہ ایک موقع پر جب یہ دلیل بیان ہو رہی تھی تو میری طبیعت میں یہ بات آگئی کہ فی الواقعہ کثرت تو ہماری طرف آجاتی ہے۔مگر ایک دوست نے اپنی تقریر میں ایک فقرہ ایسا کہا کہ وہ جن کے متعلق کہتے ہیں کہ وہ آ جاتی ہیں اُن کا لانا تو ہمارے ذمہ نہ تھا مگر جو جاتا ہے اس کی ہدایت کی ذمہ واری ہم پر تھی تو میری طبیعت نے پلٹا کھایا کہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے لا يَضُرُّكُمْ مِّن ضَلَّ إِذَا اهْتَدَيْتُمْ ؟ یعنی اگر تمہارے حق اور ہدایت پر ہونے کی وجہ سے کوئی گمراہی میں پڑتا ہے تو تم پر کوئی الزام اور ذمہ واری نہیں۔ہدایت یافتہ کو گمراہی میں پڑنے دینا معمولی بات نہیں بلکہ اگر ایک ہزار آتا ہے اور اس کی جگہ ہماری غفلت سے ایک جاتا ہے تو یہ زیادہ خطرناک ہے کیونکہ اس کو بچانے کی ذمہ واری ہم پر تھی۔بعض دوستوں نے یہ بیان کیا ہے کہ اگر غیر احمدیوں سے رشتہ لینے کی عام اجازت ہو