خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 270 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 270

خطابات شوری جلد دوم ۲۷۰ مجلس مشاورت ۱۹۳۸ء بیان ہوا ہے۔زمیندار دوستوں نے تو یہ بیان کیا ہے کہ ایسے واقعات کم ہوتے ہیں اور شہری دوستوں نے یہ بیان کیا ہے کہ ایسے واقعات زیادہ ہوتے ہیں۔میرا خیال ہے کہ یہ ایک نسبتی چیز ہے اور حالات پر محمول ہے۔شہر والوں کو سسرال میں زیادہ دیر تک ٹھہرنے کا موقع مل جاتا ہے اور زمینداروں میں سوائے آوارہ گرد نوجوانوں کے یہ بات نہیں پائی جاتی کیونکہ انہیں اپنے کام کاج کی وجہ سے ٹھہرنے کی بہت کم فرصت ہوتی ہے لیکن شہر والے کئی کئی ماہ سرال میں ٹھہر سکتے ہیں۔مثلاً ایک طالب علم کالج کی چھٹیوں کے موقع پر خیال کرتا ہے کہ چلو رخصت کے ایام بیوی کے پاس گزار آتے ہیں۔اس طرح شہر والوں کو زیادہ نقصان پہنچا ہو گا اور دیہات والوں کو کم۔اسی لئے بعض دوستوں نے بیان کیا ہے کہ جب ہم غیروں کے پاس جائیں گے تو اُن پر اپنا اثر ڈالیں گے۔بعض دوستوں نے کہا ہے کہ ان کا اثر ہمارے نوجوانوں پر پڑے گا۔لیکن سوال یہ ہے کہ جانے والا کیسا ہے اگر وہ دینی لحاظ سے طاقت اور اثر رکھتا ہے تو جہاں وہ جائے گا اپنا اثر ڈالے گا۔اور اگر کمزور ہے تو یقیناً وہ دوسروں کا اثر قبول کرے گا۔ہم نے یہ دیکھنا ہے کہ ہمارے نوجوانوں کی تعلیم اور تربیت کیسی ہے۔سو یہ امر ظاہر ہے کہ ہماری جماعت کے سَابِقُونَ الْأَوَّلُون کی اولاد بھی إِلَّا مَا شَاءَ اللہ اُن سے بڑھ کر تو کیا ان کے ہم پلہ اور ہم رنگ بھی نہیں اور ایسے نوجوان کم ہیں جو دینی تعلیم رکھتے ہوں اور دوسروں پر اثر ڈال سکیں۔تو ایسے نوجوان جہاں جائیں تو گے ضرور اثر قبول کریں گے۔اور یہ جو کہا گیا ہے کہ غیروں میں جا کر عورتیں مرتد ہو جاتی ہیں۔اس کے مقابلہ میں دوسروں نے یہ کہا ہے کہ جب غیر احمدی عورتیں احمدی گھروں میں آ جاتی ہیں تو وہ احمدی ہو جاتی ہیں۔در حقیقت یہ دونوں قسم کے واقعات پائے جاتے ہیں۔میں اپنے تجربہ کی بناء پر کہہ سکتا ہوں کہ ایسے واقعات بہت زیادہ ہیں کہ غیر احمدی لڑکیاں احمدیوں کے ہاں آکر احمدی ہوگئی ہیں اور وہ لوگ زیادہ حق پر ہیں جو کہتے ہیں کہ غیر احمدی عورتیں احمدیوں کے ہاں آکر احمدی ہو جاتی ہیں۔میرے خیال میں سو میں سے نوے ایسی ہوں گی جو آکر احمدی ہوگئی ہیں اور جو جا کر مرتد ہو جاتی ہیں وہ سو میں سے دس ہوں گی بلکہ اس سے بھی کم۔بعض تو آتے ہی احمدی ہو جاتی ہیں اور بعض ایک لمبی کشمکش کے بعد احمدی ہو جاتی ہیں۔چنانچہ کل