خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 269 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 269

خطابات شوری جلد دوم ۲۶۹ مجلس مشاورت ۱۹۳۸ء وہ عرب اقوام سے رشتہ کا سوال تھا۔اہل کتاب کے ساتھ شادی کرنے کی ان کے لئے کوئی کشش نہیں تھی۔انہیں کوئی خاص غرض نہ تھی کہ ایک یہودی یا عیسائی کی لڑکی سے شادی کریں۔عرب بھی سفید قوم تھے اور یہودی اور عیسائی بھی سفید قوم تھے۔اور گوان کے تمدن میں فرق تھا مگر شکلوں میں کوئی فرق نہیں تھا اس لئے کسی مسلمان کے لئے اس میں کوئی کشش نہیں تھی سوائے اس کے کہ اہل کتاب کے ساتھ رشتہ کرنے سے عقلی طور پر اُسے کوئی خاص فائدہ پہنچ سکتا ہو ورنہ اپنی قوم کے رشتے موجود ہوتے تھے اور وہ اُنہی کو ترجیح دیتے تھے۔تو اہل کتاب سے رشتہ کرنے کی اجازت بیشک قرآن کریم میں آئی ہے اور اس اجازت سے فائدہ اُٹھانے سے مسلمانوں کو روکنے کی کوئی کوشش نہیں کی گئی لیکن اس کی وجہ یہ ہے کہ عربوں کے لئے اس امر میں کوئی ذاتی کشش نہ تھی۔ہر شخص جانتا تھا کہ غیر برادری میں شادی وہی کرے گا جو سخت مجبور ہو گا لیکن یہاں یہ بات نہیں۔غیر احمدی ہمارے ساتھ قومیت کا تعلق بھی رکھتے ہیں اور اکثر احمدیوں کو برادریوں کے تعلق کے قیام کے لئے ان میں شادی کرنے کی رغبت ہوتی ہے۔کوئی کہتا ہے وہ میرے ماموں کی لڑکی ہے اگر میرے گھر میں آجائے تو بہت اچھا ہو۔کوئی کہتا ہے فلاں میرے چچا کی لڑکی ہے اس سے میں شادی کرلوں تو کیا حرج ہے۔غرض یہاں غیر احمدیوں سے رشتہ میں اتنی کششیں موجود ہیں کہ اہل کتاب والی مثال یہاں بالکل چسپاں نہیں ہو سکتی اور اگر کسی خاص ضرورت کے ماتحت ہم قیود لگا ئیں تو یہ حکمت سے خالی نہ ہوگا۔“ اس موقع پر چند نمائندگان نے اپنی آراء پیش کیں چنانچہ رائے شماری کے بعد حضور نے فرمایا: - 66 اس تجویز کے متعلق جو آراء ظاہر کی گئی ہیں، ان میں سے بعض کے متعلق میں کچھ کہنا چاہتا ہوں۔ایک دوست نے کہا ہے کہ ہمارا گذشتہ تجربہ یہ ہے کہ اس اجازت کے نتیجہ میں ہمارے بعض لوگ مرتد ہو گئے ہیں۔یعنی جب ایسے دوست جنہوں نے غیر احمدی لڑکی سے شادی کی ہوتی ہے فوت ہو جاتے ہیں تو اُن کی بیویاں اُن کے بچوں کو اپنے میکے غیر احمدی گھروں میں لے جاتی ہیں اور وہ غیر احمدی ہو جاتے ہیں یا بعض کمزور طبائع لوگ اپنے سرال کے اثر کے نیچے آکر احمدیت کو چھوڑ گئے ہیں۔یہ خیال کئی دوستوں کی طرف سے