خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 268 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 268

خطابات شوری جلد دوم ۲۶۸ مجلس مشاورت ۱۹۳۸ء دینی چاہئیے۔اس کے متعلق بعض باتیں کہ دینا چاہتا ہوں کیونکہ یہ بات ایک مسئلہ سے تعلق رکھتی ہے مگر اس کے یہ معنی نہیں کہ میں کوئی رائے بیان کر رہا ہوں۔میں صرف اس لئے کچھ کہنا چاہتا ہوں کہ ایک قرآنی آیت کی طرف بار بار اشارہ ہو رہا ہے اور میں سمجھتا ہوں یہ میرا فرض ہے کہ میں اس کے متعلق بعض حکمتیں بیان کر دوں۔یہ بات یاد رکھنی چاہئیے کہ ہر چیز کے استعمال کی اجازت محض اس کے فوائد اور نقصانات کے ساتھ ہی تعلق نہیں رکھتی بلکہ اس امر کا بھی خیال رکھا جاتا ہے کہ اس چیز کو کن حالات میں استعمال کیا جاتا ہے۔بعض چیزیں ایسی ہوتی ہیں جن کے استعمال کے مواقع بہت کم آتے ہیں اور طبعا اس کی طرف ہماری کشش بھی بہت کم ہوتی ہے۔اور یہ قدرتی بات ہے کہ جس کی طرف کشش کم ہو اُسے خاص حالات میں تو ہم استعمال کر لیں گے مگر عام طور پر استعمال نہیں کریں گے۔مثلاً ایک چیز کڑوی ہے اُسے اگر کوئی استعمال کرے گا تو خاص ضرورت کے ماتحت کرے گا لیکن جو چیز کڑوی بھی ہو اور ساتھ ہی نشیلی بھی ہو اُسے انسان عادت کے ماتحت بھی استعمال کر سکتا ہے۔مثلاً رسونت ایک کڑوی چیز ہے مگر اس میں نشہ نہیں۔اب جو شخص بھی اسے استعمال کرے گا خاص ضرورت کے ماتحت کرے گا لیکن افیون کا گومزا اس سے بھی زیادہ کڑوا ہے مگر ساتھ ہی اس کے نشہ بھی ہے۔پس اس کی کڑواہٹ اس کے استعمال میں روک نہیں بنتی۔یا مثلاً نیم کڑوا ہوتا ہے اور اسی طرح چرائتہ کڑوا ہوتا ہے ضرورت کے وقت لوگ ان کو بھی گھوٹ کر یا پانی میں بھگو کر پیتے ہیں۔کسی کو ضرورت نہیں کہ اس امر کی تاکید کرے کہ ان کا استعمال احتیاط سے کرو کیونکہ ان میں کوئی نشہ نہیں۔ہر آدمی جانتا ہے کہ خاص ضرورت سے ہی ان کا استعمال کیا جائے گا۔غرض کسی چیز کے منع کرنے پر جو زور دیا جاتا ہے وہ صرف اُس کے نقصان کی نسبت سے نہیں ہوتا بلکہ اس کے استعمال کے مواقع کی کثرت وقلت کی وجہ سے بھی ہوتا ہے۔اب جاننا چاہئے کہ قرآن کریم کی پہلی مخاطب قوم جس کی اکثریت تھی عرب تھے اور عربوں کا مذہب شرک تھا اور قوموں میں جب بھی رشتہ ناطہ کا سوال پیدا ہوتا برادری کا سوال سب سے پہلے سامنے آتا ہے۔پس عربوں کے نزدیک اگر کوئی چیز اہمیت رکھتی تھی تو