خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 242
خطابات شوری جلد دوم ۲۴۲ مشاورت ۱۹۳۷ء گا کہ یہ بات کس حد تک صحیح ہے۔تو ایسے کمزور لوگ جو بہانے بنا بنا کر اپنے آپ کو اس تحریک کے مطالبات سے آزاد کرنا چاہتے ہیں ان کو چھوڑ کر باقی جماعت نے اچھا نمونہ دکھایا ہے۔چندے کے وعدے بھی اچھے کئے ہیں اور ادا بھی بہت حد تک کیا ہے۔امانت فنڈ میں بھی کافی حصہ لیا ہے گو اتنا نہیں جتنی میری خواہش تھی۔سادہ زندگی کی طرف بھی توجہ کی ہے۔قادیان میں مکانات بنانے کے متعلق بھی جماعت میں ایک بیداری پائی جاتی ہے گواتنی نہ ہو جتنی اس وقت ضرورت ہے۔قادیان میں تعلیم حاصل کرنے کے لئے اپنے بچے بھیجنے کے مطالبہ میں بھی لوگوں نے حصہ لیا ہے۔بیرونی ممالک میں نکل جانے کے متعلق بھی جماعت نے اچھا نمونہ دکھایا ہے۔غرض اُنہیں مطالبات میں سے سات آٹھ مطالبے ایسے ہیں جن کو جماعت نے عمدگی سے پورا کیا ہے۔باقی تمام مطالبات ایسے ہیں جن کی طرف جماعت کو ابھی توجہ کی بہت زیادہ ضرورت ہے۔خصوصاً بریکاری دُور کرنے اور اپنے ہاتھوں سے کام کرنے کے متعلق جو میری نصیحت تھی اس کے مطابق صرف ایک فیصدی کام ہوا ہے اور ننانوے فیصدی کام باقی ہے۔ایک قربانی دوسری قربانی کا زینہ ہیں ان امور کی طرف میں جماعت کو پھر توجہ پس دلاتا ہوں اور انہیں بتا تا ہوں کہ ہر قربانی دوسری قربانی کے لئے ایک زینہ کے طور پر ہوتی ہے۔اگر کوئی شخص ایک زینہ پر قدم نہیں رکھتا تو اس سے یہ امید نہیں کی جاسکتی کہ وہ دوسرے زینے پر چڑھ سکے۔اسی طرح اگر کسی شخص نے ان مطالبات کو پورا کرنے میں حصہ نہیں لیا تو اس سے یہ امید کس طرح کی جاسکتی ہے کہ وہ انگلی سکیموں پر عمل کرنے کے لئے تیار ہو گا۔کسی کو کیا پتہ کہ اگلی سکیم کیسی ہو اور اس کے لئے کتنی بڑی قربانیوں اور ایثار کی ضرورت ہو لیکن اگر آپ یہ چھوٹی چھوٹی قربانیاں کریں گے اور شوق سے ان میں حصہ لیں گے تو اللہ تعالیٰ آپ کو ان سے بڑی بڑی قربانیوں کی توفیق عطا فرماوے گا۔پس اس طرف میں دوستوں کو خصوصیت سے توجہ دلاتا ہوں۔جو دوست یہاں بیٹھے ہیں وہ توجہ کریں لیکن یاد رکھیں کہ میرا یہ حکم نہیں کہ واجبی چندوں کو نظر انداز کر کے اس میں حصہ لو بلکہ میں نے جو کچھ کہا ہے وہ یہ ہے کہ صدر انجمن احمدیہ کے مستقل چندے مقدم ہیں۔ہاں اُن کے علاوہ اگر اپنی خوشی سے تم اس تحریک میں شامل ہونا چاہتے ہو تو