خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 234
۲۳۴ مشاورت ۱۹۳۷ء خطابات شوری جلد دوم کہ ایسا نہیں ہوا۔گو یہ دعویٰ اُن کا تو باطل تھا کہ اُس نے ایسی نگرانی کی ہو مگر پھر بھی میں نے احتیاطا گھر میں دریافت کیا۔ایک بیوی سے معلوم ہوا کہ اُن کو اور لڑکی کو اُنہی دنوں میں نماز جائز نہ تھی دوسری بیوی سے بھی یہی امر معلوم ہوا۔اب یہ ایک اتفاق ہے کہ ایک ہی وقت میں تینوں کے لئے نماز ترک کرنی ضروری تھی مگر ایسے اتفاق بھی ہو جاتے ہیں۔اگر وہ عورت بدظنی سے کام نہ لیتی تو اس کے لئے ابتلاء کی کوئی بات نہ تھی۔تو بعض دفعہ اس طرح بھی غلطی ہو جاتی ہے۔نیا آدمی ہوتا ہے اور وہ اپنے دل میں ایک قیاس کر کے اعتراض قائم کر لیتا ہے۔لیکن اس موجودہ اعتراض پر تو وہی مثال صادق آتی ہے جیسے پنجابی میں کہتے ہیں ”برائون ہی گنٹھیا ہے۔سب جھوٹ ہی جھوٹ ہے اور اس میں کچھ سچائی نہیں کیونکہ معترضہ یہ کہتی ہے کہ اُس نے مجھے سات کھانے کھاتے ہوئے دیکھا۔ایک دفعہ ایک دوست نے کسی شخص کا یہ اعتراض مجھے پہنچایا کہ انہوں نے اپنی لڑکی کی شادی پر ۲۷ ہزار روپے کا زیور دیا ہے۔میں نے کہا وہ شادی میں نے تحریک جدید سے پہلے کی تھی اس لئے اگر اللہ تعالیٰ مجھے توفیق دیتا اور میرے پاس مثلا کروڑ روپیہ ہوتا اور میں اُس میں سے ۲۷ ہزار کے زیور بنا دیتا تو اس میں کوئی حرج نہ تھا لیکن میں نے ۲۷ ہزار کے زیور پہنائے ہی نہیں اور اگر اسے اصرار ہو تو وہ میرے ساتھ شرط کر لے جتنے زیور میں نے پہنائے ہیں وہ میں اُسے دے دوں گا اور ۲۷ ہزار میں سے ۲۷ سو روپیہ ہی وہ مجھے دے دے مجھے اس میں بھی کثیر فائدہ رہے گا کیونکہ وہ زیور اس سے بھی بہت کم قیمت کا تھا۔اسی طرح ایک دفعہ ایک شخص نے کہا کہ جلسے پر جب لوگ آتے ہیں تو پچیس ہزار کے قریب روپیہ انہیں صرف نذرانوں سے حاصل ہوتا ہے۔میں نے اُسے کہا کہ تم اس کا دسواں حصہ مجھے دے دیا کرو، اور جلسہ پر جس قدر نذرانہ آئے وہ تم اُٹھاتے چلے جاؤ۔پھر خود ہی دیکھ لینا کہ کس کو زیادہ فائدہ رہتا ہے۔غرض بعض دفعہ لوگ اتنا جھوٹ بولتے ہیں کہ اس کی کوئی حد ہی نہیں ہوتی۔ایک شخص تھا وہ ایک دفعہ حضرت خلیفہ اول کے پاس آیا اور کہنے لگا مجھے بخاری خرید دیجئے۔آپ نے فرمایا میرے پاس روپیہ ہے نہیں۔وہ کہنے لگا بھلا آپ کے پاس روپیہ نہ ہو یہ میں کس طرح مان لوں۔آپ صاف طور پر یہی کیوں نہیں کہہ دیتے کہ میں خرید کر نہیں دیتا۔حضرت خلیفہ اول نے فرمایا میرے پاس روپیہ ہوتا تو خرید دیتا،