خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 235 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 235

خطابات شوری جلد دوم ۲۳۵ مشاورت ۱۹۳۷ء ہے نہیں تو کس طرح خرید دوں۔وہ کہنے لگا یہ کس طرح ہو سکتا ہے جماعت کی تعداد اس وقت دس لاکھ ہے اگر ہر شخص چار چار آنے سالانہ بھی آپ کو نذرانہ دیتا ہو تو اڑھائی لاکھ روپیہ سالانہ آپ کے پاس جمع ہو جاتا ہے اور پھر آپ کہتے ہیں کہ کچھ نہیں۔حضرت خلیفہ اول کی عادت تھی کہ اگر سمجھانے کے لئے سختی کی ضرورت ہوتی تو اُس سے دریغ نہ کرتے۔آپ نے یہ سُن کر فرمایا اتنی بے شرمی ! آپ ہی بتا ئیں آپ نے مجھے اتنے سالوں میں کتنی چونیاں دی ہیں؟ تو کئی لوگ ایسے اعتراض کر دیتے ہیں جن میں ذرہ بھر بھی سچائی نہیں ہوتی۔غرض میں نے متواتر توجہ دلائی ہے کہ تحریک جدید کے مطالبات کو پورا کرو۔خصوصاً اس کا سولہواں مطالبہ ایسا ہے جس کی طرف جماعت کو زیادہ توجہ کرنے کی ضرورت ہے۔مگر میں نے دیکھا ہے قادیان میں اس مطالبہ کے ماتحت چند دن کام کیا گیا ، پھر میں تبدیل آب و ہوا کے لئے پہاڑ پر چلا گیا، تو امور عامہ نے خیال کر لیا کہ یہ مطالبہ میری موجودگی میں ہی قابل عمل تھا اس کے بعد نہیں۔پہاڑ سے واپس ہوئے تو حضرت (اماں جان ) پر فالج کا حملہ ہو گیا اور اُدھر مصروفیت رہی پھر سندھ کی طرف جانا پڑا، اس کے بعد میں خود بیمار ہو گیا اور پھر الیکشن کے کام میں مصروف رہنا پڑا، اس وجہ سے میں نگرانی نہ کر سکا لیکن مجھ پر اثر یہی ہے کہ اب کوئی کام نہیں ہو رہا۔انہوں نے غالباً سمجھا ہے کہ چھ مہینے ہم نے ایک شغل اختیار کر لیا ہے اب اُسے مستقل طور پر جاری رکھنے کی کیا ضرورت ہے حالانکہ یہی وہ چیزیں ہیں جو لوگوں پر برا اثر ڈالتی ہیں۔میں خدا تعالیٰ کے فضل سے بڑا کام کرنے والا ہوں ، رات کو بھی یہاں سے گیا تو پڑھتا رہا اور جب سونے لگا تو اُس وقت دو بج چکے تھے لیکن باوجود اس کے کچھ عرصہ سے کام اس قدر زیادہ ہوتا ہے کہ ڈاک بعض دفعہ دفتر میں بھیج دیتا ہوں کہ اس کا خلاصہ میرے سامنے پیش کیا جائے۔پھر بھی میرے جیسا آدمی نہیں کہہ سکتا کہ ہفتے میں وہ اس کام کے لئے کوئی وقت نہیں نکال سکتا۔پھر میں کس طرح مان سکتا ہوں کہ وہ دوسرے لوگ جن کے اوقات اتنے مصروف نہیں ، وہ ہفتہ میں دو چار گھنٹے اس کام کے لئے نہیں نکال سکتے اور کیا وجہ ہے کہ ایک کام کو جاری کر کے اُسے چھوڑ دیا جائے۔