خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 233 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 233

خطابات شوری جلد دوم ۲۳۳ مشاورت ۱۹۳۷ء تو لطیفہ ہوا۔بات کچی یہی ہے کہ سات کھانے میں نے کبھی کھائے ہی نہیں۔ہاں چونکہ تھے ہمارے گھروں میں کثرت سے آتے رہتے ہیں اس لئے ممکن ہے دوسالوں میں چھ سات دفعہ میں نے اُن تحفوں میں سے کسی ایک کو تحفہ لانے والے کی دلداری کے طور پر چکھ لیا ہو۔یہ اگر دوسرا کھانا کہلا سکتا ہے تو ایسا دوسرا کھانا چھ سات دفعہ دو سالوں میں میرے استعمال میں ضرور آیا ہے اس سے زیادہ نہیں اور سات کھانے تو کبھی استعمال میں ہی نہیں آئے۔اس قسم کے اعتراض بہت دفعہ بدظنی سے بھی پیدا ہو جاتے ہیں۔مثلاً دستر خوان پر پانچ چھ آدمیوں نے بیٹھنا ہو، ایک دو مریض ہوں جن کے لئے پر ہیزی کھانا پکا ہو، ایک کھانا باقی لوگوں والا ہو، اور اتفاقاً کوئی شخص تحفہ لے آئے وہ بھی دستر خوان پر چنا گیا۔اب دیکھنے والا اگر تقویٰ سے کام نہ لے تو سمجھے گا کہ چار کھانے رکھے ہیں حالانکہ ان میں سے تین تو الگ الگ لوگوں کے لئے ہیں اور چوتھا تحفہ ہے جسے یا تو گھر کا کھانا چھوڑ کر کوئی شخص کھائے گا یا پھر صرف چکھ لے گا کہ دوسرے کا دل میلا نہ ہو۔اسی قسم کی بدظنی کا واقعہ مجھ سے ایسا گزرا ہے کہ وہ مجھے ہمیشہ یاد رہتا ہے۔ایک دفعہ ایک دوست میرے پاس آئے اور کہنے لگے میری بیوی پہلی دفعہ قادیان آئی تھی اُسے آپ کے گھر آ کر بہت بڑا ابتلاء آ گیا۔میں نے پوچھا کیا بات ہوئی ؟ وہ ہے تو عورتوں کے متعلق بات لیکن چونکہ مسئلہ بیان کرنا پڑتا ہے اس لئے بعض دفعہ ایسی باتیں بھی بیان کرنی پڑتی ہیں۔چنانچہ ایک دفعہ ایک عورت نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ایک مسئلہ پوچھا جو عورتوں سے تعلق رکھتا تھا تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا تو نے عورتوں کی لٹیا ڈبودی مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا دین کے مسائل پوچھنے اور بیان کرنے میں کوئی شرم کی بات نہیں، تو بعض دفعہ اس قسم کی باتیں بھی بیان کرنی پڑتی ہیں۔خیر جب میں نے اُس سے دریافت کیا کہ کیا ابتلاء آیا ہے۔تو اُس نے بتایا کہ میری بیوی نے دیکھا ہے کہ آپ کے گھر کی مستورات نماز نہیں پڑھتیں۔میں نے کہا ممکن ہے جس کے متعلق آپ کی بیوی کو مشبہ پڑا ہوا نہیں ماہواری ایام آئے ہوئے ہوں۔وہ کہنے لگے کہ میں نے اپنی بیوی سے یہ کہا تھا مگر اُس نے کہا کہ آپ کی دونوں بیویوں نے نماز نہیں پڑھی اور نہ آپ کی جوان بیٹی نے۔میں نے کہا شاید اُنہوں نے الگ پڑھ لی ہو۔اُنہوں نے کہا نماز کے وقت ساتھ رہی ہے اور اُسے یقین ہے