خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 230
۲۳۰ مشاورت ۱۹۳۷ء خطابات شوری جلد دوم عارضی حصہ میں ہوتی ہیں، اصول ہمیشہ ایک ہی رہتے ہیں۔مثلاً میں نے تحریک جدید میں ایک مطالبہ جماعت سے یہ کیا ہے کہ قادیان میں اپنے مکان بناؤ۔یہ مطالبہ ایک عارضی مطالبہ ہے جو بعد میں صرف مخصوص لوگوں کے لئے رہ جائے گا اور ہر شخص سے یہ مطالبہ نہیں کیا جائے گا۔کیونکہ اب تو ضرورت ہے کہ مرکز مضبوط ہو۔پس مرکز کی مضبوطی اور اُسے دشمنوں کے حملوں سے محفوظ رکھنے کے لئے ہم تحریک کرتے ہیں کہ دوست یہاں آئیں اور مکان بنائیں۔ہم جب یہ تحریک کرتے ہیں کہ سو میں سے ایک دو ایسے نکل آتے ہیں جو قادیان میں مکان بنا لیتے ہیں اور اس طرح اگر پانچ چھ ہزار آدمی بھی قادیان میں مکان بنا لے تو اس سے مرکز کی شان و شوکت بڑھ جاتی ہے لیکن جب خدا تعالیٰ کے فضل سے احمدیت ساری دُنیا میں پھیل گئی اور اربوں لوگ احمدی ہو گئے تو اُس وقت اگر ہم یہ تحریک کریں گے کہ قادیان آ جاؤ اور اپنے اپنے مکان بناؤ تو پھر اس تعداد کا اگر سواں حصہ بھی آ جائے اور پچاس ساٹھ لاکھ یا کروڑ آدمی نے بھی اس آواز پر لبیک کی تو اُن کے لئے قادیان میں گنجائش نہیں ہو گی۔پس یہ تو منشاء الہی اور سنت اللہ کے خلاف ہے کہ اس تحریک کو مستقل طور پر جاری رکھا جائے۔یہ ایک عارضی چیز ہے جو اُس وقت تک قائم رہے گی جب تک مرکز مضبوط نہیں ہوتا لیکن اس مطالبہ کے ماتحت جو اصل کام کر رہا ہے وہ ہمیشہ قائم رہے گا۔یعنی جہاں بھی اسلام کو مدد کی ضرورت ہو وہاں تم جمع ہو جاؤ اور جس جگہ کے متعلق بھی اسلام چاہتا ہو کہ مسلمان وہاں جائیں اور اپنے بیوت کو قبلہ بنائیں وہاں فوراً پہنچیں۔پس یہ اصل باطل نہیں ہو گا ہاں اس کی موجودہ شکل بدلتی رہے گی۔اس زمانہ میں ممکن ہے ہم یہ کہہ دیں کہ فلاں فلاں قسم کی لیاقتوں کے لوگ قادیان میں آئیں۔مثلاً وہ جو علوم دینیہ میں ماہر ہوں یا روحانیت رکھنے والے وجود ہوں تا کہ مرکز میں نیکی قائم رہے۔تو تحریک جدید میں کئی چیزیں بے شک عارضی ہیں لیکن اصول وہی رہیں گے اور جب تک قومی ترقی کے لئے اس کی موجودہ شکل ضروری ہے یہ قائم رہے گی اور جب کسی اور شکل کی ضرورت ہوگی وہ قائم کر دی جائے گی۔بہر حال اس وقت وہی شکل ضروری ہے جس شکل میں میں نے آپ لوگوں کے سامنے مطالبات پیش کئے ہیں۔ان مطالبات پر گو جماعت نے ایک حد تک عمل کیا ہے لیکن سولہواں مطالبہ ایسا ہے