خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 231
خطابات شوری جلد دوم ۲۳۱ مجلس مش مشاورت ۱۹۳۷ء جس پر ابھی بہت کچھ عمل کرنے کی ضرورت ہے۔پچھلے دنوں ایک دوست جو عیسائی ہیں اور یہاں امتحانوں کے سپرنٹنڈنٹ بن کر آئے تھے ، مجھ سے ملنے کے لئے آئے۔باتوں باتوں میں کہنے لگے کہ آپ کا جو سولہواں مطالبہ تھا اور جس میں اپنے ہاتھ سے کام کرنے کی تاکید تھی ، اُس پر قادیان میں عمل نہیں ہوتا۔میں نے اُنہیں بتایا کہ میں نے تو خود یہ نیت کی ہوئی ہے کہ اس مطالبہ پر عمل کروں اور جماعت سے کراؤں لیکن آپ جن امور کی طرف توجہ دلا رہے ہیں آپ کو یاد رکھنا چاہئے کہ وہ صرف ہماری نیت اور عمل سے درست نہیں ہو سکتے ، اُن کے متعلق حکومت کا تعاون بھی ضروری ہے اور وہ ہمارے ساتھ تعاون نہیں کرتی اور اس لئے ہمارے لئے بہت سی مشکلات ہیں۔پھر میں نے اُنہیں کہا آپ کو اس بارہ میں ایک لطیفہ بھی سُنا دوں۔ایک دفعہ پادری گارڈن صاحب ڈاکٹر ز ویمر صاحب کو لے کر قادیان آئے۔ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب مرحوم اُس وقت زندہ تھے۔میری ملاقات سے پہلے اُنہوں نے ڈاکٹر زویمر صاحب اور پادری گارڈن صاحب کو قادیان کے بعض مقامات دکھائے۔قادیان کی سیر کرنے کے بعد ڈاکٹر زویمر کہنے لگے مجھے خواہش تھی کہ میں دیکھوں کہ اسلامی مسیح کی جماعت نے کہاں تک ترقی کی ہے، کم از کم ظاہری صفائی کے لحاظ سے تو اُس کے مرکز نے کوئی ترقی نہیں کی۔ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب مرحوم کہنے لگے ، ابھی اسلامی مسیح کی حکومت نہیں آئی پہلے مسیح کی ہی حکومت ہے اس لئے قادیان کی صفائی کا الزام پہلے مسیح کی قوم پر ہی آتا ہے۔بعض اعتراضات کے جوابات ابھی تقریر کے دوران میں ایک دوست نے جو امرتسر کے ہیں لکھا ہے کہ اُن کے پاس کسی اور دوست نے بیان کیا ہے کہ اُن کی بیوی کہتی ہے میں قادیان گئی تو مجھے اُنہوں نے اپنے گھر میں سات سات کھانے کھاتے دیکھا ہے۔وہ دوست احمدی ہے اور اس کی بیوی بھی احمدی ہے اس لئے میں لَعْنَةُ اللهِ عَلَى الْكَاذِبِینَ کہنے سے تو رہا، میں یہی کہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ انہیں جھوٹ سے بچائے، اور بے دینی کے مرض سے محفوظ رکھے۔اگر اس دوست کی بیوی یہاں موجود ہوتیں تو میں انہیں اپنی بیویوں کے سامنے کرا دیتا اور سات کھانوں کا فیصلہ ہو جاتا ، مگر وہ یہاں نہیں۔اس لئے میں سوائے اس کے کیا کہوں کہ اس میں ذرہ بھر بھی سچائی