خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 229
خطابات شوری جلد دوم ۲۲۹ مشاورت ۱۹۳۷ء دو بھی کئی اخبار ہیں جو فائدے پر چل رہے ہیں اور پرتاپ“ اور ”ملاپ والوں نے تو جائیدادیں بنالیں ہیں مگر ایک بات یاد رکھنی چاہئے اور وہ یہ کہ جب وہ یہ کہتے ہیں کہ ”زمیندار“ بھی خسارے پر چل رہا ہے اور ہر وقت لوگوں سے امداد مانگتا رہتا ہے، تو سوال یہ ہے کہ اُس نے تو روپیہ لینا ہوا، اُسے تو اگر دس ہزار کی بچت بھی ہو جائے تو وہ اور مانگے گا۔ہم نے سندھ میں زمینیں لی ہوئی ہیں۔اسی سلسلہ میں ایک صاحب نے ایک دوسرے دوست سے ذکر کیا کہ آپ کے آدمی کہتے پھرتے ہیں کہ اب کے اتنی کپاس ہو گئی ،لیکن ہماری کپاس ہوتی بھی ہے تو ہم روتے رہتے ہیں اور کہتے ہیں کچھ نہیں ہوگا۔نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ افسر ہمیں روپیہ معاف کر دیتا ہے اور آپ سے لے لیتا ہے۔تو اگر ”زمیندار“ روتا رہتا ہے تو ہم تو یہی کہیں گے کہ وہ اس لئے روتا ہے کہ اُسے اور ملے نہ اس لئے کہ اُسے خسارہ ہے۔لیکن اگر اس عذر کو تسلیم بھی کر لیا جائے تو میں بتانا چاہتا ہوں کہ ”الفضل“ کے سوا کوئی ڈیلی اردو اخبار ایسا نہیں جس کا مستقل خریدار اٹھارہ سو کیا ایک ہزار بھی ہو۔وہ سب ایجنسی کے ذریعہ چلتے ہیں اور جو اخبار ایجنسی کے ذریعہ چلنے والے ہوں اُن کی تعداد اتنی جلدی بڑھتی گھٹتی ہے کہ اس کا اندازہ ہی نہیں کیا جا سکتا۔”زمیندار“ بعض دفعہ ایک ایک ہزار یا اس سے کم چھپتا رہا ہے اور بعض دفعہ پندرہ پندرہ ہزار بھی۔پس یہ عذر بھی بالکل فضول ہے۔الفضل کے اتنے مستقل خریدار ہیں کہ ہندوستان کے کسی مسلمان اُردو روز نامہ کو اتنے خریدار حاصل نہیں۔پس وہ کاغذ وغیرہ سستے داموں پر خریدنے کی طاقت رکھتا ہے۔اس کے بعد میں دوستوں کو تحریک جدید کی طرف پھر توجہ دلانا چاہتا ہوں۔آپ لوگ اس وقت اتفاقاً یہاں جمع ہیں۔میں خطبات میں تحریک جدید کی طرف جب توجہ دلاتا ہوں تو یہ آپ کی مرضی پر منحصر ہوتا ہے کہ آپ ان خطبات کو پڑھیں یا نہ پڑھیں لیکن اب جو کچھ میں کہوں گا وہ آپ کو لازماً سننا پڑے گا۔قادیان میں مکان بنانے کی تحریک میں نے متواتر توجہ دلائی ہے کہ ہر زمانہ کے لحاظ سے کامیابی حاصل کرنے کے کچھ گر ہوتے ہیں جن کو اگر مدنظر نہ رکھا جائے تو کامیابی کی منزل بہت دور ہو جاتی ہے۔وہ گر گو زمانہ کی ضروریات کے لحاظ سے بدلتے چلے جاتے ہیں مگر اُن میں جو تبدیلیاں ہوتی ہیں وہ