خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 228
خطابات شوری جلد دوم ۲۲۸ مشاورت ۱۹۳۷ء دے دو، میں سو روپے کا اشتہار پچاس روپے میں شائع کرا دوں گا۔پس اگر اس بات کی گھلی اجازت ہو تو کسی کو کیا پتہ کہ درمیان میں رشوت ستانی کا کوئی واقعہ ہو رہا ہے یا نہیں۔غرض اس طرح بددیانتی کا راستہ بھی گھل جاتا ہے۔میرا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ موجودہ عملہ میں سے کوئی شخص ایسا کر رہا ہے، میں قانون پر بحث کر رہا ہوں اور قانون آدمی کو نہیں دیکھا کرتا امکانات کو دیکھا کرتا ہے۔آج اگر سب دیانتدار ہوں تو کل کو کوئی بددیانت آدمی عملہ میں آ سکتا ہے۔پس قانون ایسا ہونا چاہئے کہ انسانی حدود کے اندر رہتے ہوئے معقول طور پر مکمل کہلا سکے۔کاغذستا خریدا جائے اسی طرح تجارتی صیغوں کے بجٹ میں ایک اور نقص یہ ہے کہ چیزوں کو چیک نہیں کیا جاتا۔مثلاً کاغذ چھ ہزار پانچ سو کا لکھا ہے اور یہ معمولی رقم نہیں بلکہ بہت بڑی رقم ہے۔اگر کوشش کر کے چھ ہزار پانچ سو کی بجائے صرف چھ ہزار کا کاغذ رہ سکے، تو کیا صدر انجمن احمدیہ کا فرض نہیں کہ وہ نگرانی کرے اور ستا کاغذ خریدنے کی ہدایت دے؟ میں نے دیکھا ہے یہاں پہلے چھوٹی چھوٹی کتا بیں چھپتی تھیں اور اُن کی ڈیڑھ ڈیڑھ دو دو اور اڑھائی اڑھائی روپے قیمت ہوا کرتی تھی لیکن جب مولوی ابوالفضل صاحب کو میں نے کتابیں چھاپنے کی اجازت دی تو وہی کشتی نوح جو کبھی چھ آنے پر بکتی تھی چار آنے پر فروخت ہونے لگی، پھر تین آنے پر، اور اب انہوں نے ایک ایک آنہ پر کشتی نوح دینی شروع کر دی ہے۔اسی طرح وہ کتابیں جو بک ڈپو پہلے ڈیڑھ ڈیڑھ روپے میں دیتا تھا اس مقابلہ کی وجہ سے اس نے آٹھ آٹھ آنے اور دس دس آنے پر دینی شروع کر دی ہیں۔تو جب مقابلہ شروع ہوا ، اُس وقت قیمتیں بھی کم ہو گئیں۔کاغذ بھی اُنہیں سستا ملنے لگ گیا اور لوگوں کو بھی سہولت ہو گئی۔تو کئی چیزوں میں کسی بددیانتی کی وجہ سے نہیں بلکہ کافی تجربہ نہ ہونے کی وجہ سے نقصان رہتا ہے اور تجارتی چیزیں تو ہمیشہ تجارتی اصول پر چلانی چاہئیں۔بعض اخبار نویس کہہ دیا کرتے ہیں کہ ہندوستان میں کوئی اخبار فائدے پر نہیں چل رہا۔بہت حد تک اُن کی یہ بات صحیح ہے، گو ایسے بھی اخبار ہیں جو فائدے پر چل رہے ہیں۔” تہذیب نسواں فائدے پر چلتا ہے، ریاست فائدے پر چلتا ہے، اسی طرح اور