خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 227
خطابات شوری جلد دوم ۲۲۷ مشاورت ۱۹۳۷ء طرف سے تینتیس ہزار روپیہ وصول ہونا چاہئے۔اگر اشتہاروں کا چار پانچ ہزار شامل کیا جائے تو آمد سینتیں، اڑتیں ہزار ہونی چاہئے مگر آمد اس سے بہت کم دکھائی گئی ہے۔اشتہارات کے بارہ میں یاد رکھنا چاہئے کہ آٹھ دس روپیہ فی صفحہ ہمارا خرچ بنتا ہے کیونکہ ۱۲ صفحہ کا اخبار ہوتا ہے، اور سال میں تین سو پر چہ نکلتا ہے اور خرچ کا بجٹ تمیں ساڑھے تیں ہزار ہے۔اس حساب سے فی صفحہ آٹھ دس روپیہ کا خرچ ہوتا ہے۔اگر ہم صرف خرج وصول کریں اور دو صفحہ روزانہ کا اشتہار رکھیں تو ہماری آمد چھ ہزار سے کسی صورت میں کم نہیں ہونی چاہئے۔گو میں نے سُنا ہے بعض دفعہ پانچ روپیہ فی صفحہ بھی اجرت لے لی جاتی ہے جو ہرگز درست نہیں کیونکہ موجودہ بجٹ کو دیکھ کر معلوم ہوتا ہے کہ آٹھ دس روپے فی صفحہ ہمارا خرچ بنتا ہے اور خرچ سے کم لینا عقل کے بالکل خلاف ہے۔پھر سرکاری اشتہار بھی بعض دفعہ چھپتے ہیں اور ان کی اُجرت بہت زیادہ ہوتی ہے۔غالبا نصف کالم کے پانچ روپے ہوتے ہیں۔اسی طرح ریلوے اور ہائیکورٹ کے اشتہاروں کی قیمت بھی عام اشتہارات سے غالباً زیادہ ہوتی ہے لیکن عام اشتہارات کی بھی خرچ سے کم قیمت لینا عظمندی میں داخل نہیں کیونکہ اگر مستقل طور پر ایسا کیا جائے تو دوکاندار اس بات کا عادی ہو جائے گا کہ اصل خرچ سے اشتہارات کی اُجرت کم دے۔لوگ سمجھیں گے، اخبار والے ڈرتے ہیں۔جب ہم کہیں گے کہ ہم پانچ روپے فی صفحہ اجرت نہیں دیتے تو وہ کہہ دیں گے اچھا چار روپے ہی لا ؤ اور جب کہیں گے کہ چار روپے بھی نہیں دیتے تو وہ تین پر آجائیں گے۔بہر حال یہ اصول ہونا چاہئے کہ اخراجات سے کم اجرت نہ لی جائے تا کہ یہ رسم ہی نہ پڑ جائے۔إِلَّا مَا شَاءَ اللہ۔بعض دفعہ بعض فرمیں عارضی طور پر اشتہار دیتی ہیں اور چونکہ اُن سے امید کی جاتی ہے کہ وہ آئندہ مستقل طور پر اشتہار دیں اس لئے استثنائی صورتوں میں اُن سے رعایت کی جا سکتی ہے لیکن اس کے علاوہ اشتہارات کی ایک معین اُجرت مقرر ہونی چاہئے اور اس میں کمی بیشی نہیں ہونی چاہئے۔غرض بجٹ میں آمد اور خرچ دونوں حساب بالکل نہیں ملتے اور سمجھ میں نہیں آتا کہ یہ میزا نیں کس طرح لگائی گئی ہیں۔۔یاد رکھنا چاہئے اشتہارات کی اُجرت معین نہ ہونے کا ایک بہت بڑا نقص یہ بھی ہوتا ہے کہ اشتہار لینے والا ممکن ہے بعض دفعہ اشتہار دینے والے تاجر سے کہے کہ مجھے اتنا انعام