خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 214 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 214

خطابات شوریٰ جلد دوم ۲۱۴ مشاورت ۱۹۳۷ء ہے۔میں نے کل یا پرسوں میاں بگا کا قصہ سُنایا تھا، اُنہوں نے تو کہا تھا میں بھی راضی ہوں اور میری ماں بھی راضی ہے، آپ روپے اور لڑکی کا انتظام کر دیں۔مگر یہاں روپیہ بھی موجود ہے اور کام کرنے والے بھی مگر سفیدی ہونے میں نہیں آتی۔اتنے لمبے عرصہ میں تاج محل بنانے والوں نے تاج محل بنا لیا ، مگر ہم ابھی تک یہ فیصلہ نہیں کر سکے کہ سفیدی کس سے کرائیں۔بدظنی تو گناہ کی بات ہے مگر شاید یہ بدظنی نہ ہو بلکہ حسن ظنی ہی ہو کہ جو روپیہ انہوں نے اکٹھا کیا تھا وہ کہیں خرچ کر چکے ہیں اور اب چاہتے ہیں کہ جتنی مدت گزر جائے اُتنا ہی اچھا ہے۔نصاب تعلیم کی اصلاح کی ضرورت پاچھی بات جس کی طرف میں اکارت تعلیم وتربیت اور جماعت کو توجہ دلانا چاہتا ہوں یہ ہے کہ ہمیں اب تعلیمی نصاب کی طرف توجہ کرنی چاہئے اور تعلیم کے نصاب میں سے خواہ وہ شاعری کا حصہ ہو یا نثر کا، ہمیں نقائص دُور کر کے اصلاح کرنی چاہئے۔ایک دفعہ ریڈیو پر ایک لیکچر ہوا جس میں پہلی دفعہ غیر از جماعت شخص کے منہ سے یہ دلیل میں نے سنی کہ ہمارے ہاں اردو کی تعلیم میں جو شاعری کا حصہ رکھا گیا ہے وہ اخلاق پر نہایت بُرا اثر ڈالتا ہے کیونکہ اس سے دلوں میں مایوسی پیدا ہوتی اور ہمتیں مُردہ ہو جاتی ہیں۔شاعری کا ایک حصہ یہ بھی ہے کہ وہ مخرب اخلاق ہے لیکن اس کے علاوہ ہماری شاعری کا یہ جو حصہ ہے کہ وہ مایوسی پیدا کرتا ہے یہ سب سے پہلے میں نے ہی لوگوں کے سامنے پیش کیا تھا، مگر اب آہستہ آہستہ دوسروں پر بھی اس کا اثر ہو رہا ہے۔تعلیم پر کسی پروفیسر کا لیکچر تھا جس میں اُس نے یہ پہلو بیان کیا پس ہمیں اپنے تعلیمی نصاب کی طرف توجہ کرنی چاہئے۔بے شک ایک پہلو یہ بھی ہے کہ ہماری شاعری یہ سکھاتی ہے کہ اگر کوئی بد تحریک کرے تو اُسے ضرور قبول کرو کیونکہ یہ وفا ہے اور اگر بد تحریک کو قبول نہیں کرو گے تو بے وفا بن جاؤ گے۔یہ حصہ بھی قابلِ اصلاح ہے اور اس کو دُور کرنا چاہئے۔لیکن ایک بہت بڑا نقص ہماری شاعری میں یہ ہے کہ وہ مایوسی پیدا کرتی اور یہ بتاتی ہے کہ جس سے تم محبت کرتے ہو وہ ظالم ہے اور تم مظلوم اور اب تمہارا بعد کی تحقیق سے یہ صحیح ثابت ہوا کہ انجمن دوسرے سلسلہ کے کاموں میں اس مد میں سے اڑھائی ہزار سے زائد خرچ کر چکی ہے جس کے واپس کرنے کی میں نے اب اس کو ہدایت کی ہے۔