خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 215 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 215

خطابات شوری جلد دوم ۲۱۵ مجلس مش مشاورت ۱۹۳۷ء یہی کام ہے کہ اس کے ظلم وستم کو برداشت کرتے جاؤ اور کبھی کامیابی کی امید نہ رکھو۔جیسا کہ عرقی نے کہا ہے عرفی اگر بگر یہ میسر شدے وصال صد سال می توان به تمنا گریستن یعنی عرفی اگر وصالِ یار کا میسر ہونا ممکن ہوتا تو میں سو سال تک بھی روتا رہتا ، مگر افسوس کہ وصال یار تو ممکن ہی نہیں۔گویا دُنیا کو بتایا گیا ہے کہ تمہیں وصال کبھی حاصل ہو ہی نہیں سکتا خواہ ساری عمر روتے اور چیختے رہو۔پس شاعری کے لحاظ سے اور نثر کے لحاظ سے بھی ہمارے نصاب بدلنے چاہئیں۔مگر یہ کام صرف محکمہ نہیں کر سکتا بلکہ مختلف دوست اگر چاہیں تو اپنے اپنے طور پر یا مل کر کر سکتے ہیں۔مصنفین کے لئے ہدایات میں ہر شخص کو کوئی نہ کوئی شوق لگا ہوا ہوتا ہے اگر علمی مذاق رکھنے والے لوگ اپنی فرصت کے اوقات میں کوئی کتاب ہی لکھ دیں تو اس میں کیا حرج ہے۔مگر یہ ضروری بات ہے کہ جو کتاب لکھیں وہ معقول ہو اور علمی رنگ میں لکھی گئی ہو۔بعض لوگ نہایت نا معقول کتاب لکھتے ہیں اور پھر اصرار کرتے ہیں کہ اس کو اُسی شکل میں شائع کرنے کی اجازت دی جائے۔گویا وہ اس اصل کو اختیار کرتے ہیں کہ اگر چه گنده است مگر ایجاد بنده است اول تو یہ اصرار ہوتا ہے کہ اس کتاب پر میں ریویو لکھوں پھر یہ اصرار ہوتا ہے کہ ریویو بھی ایسا زبر دست ہو کہ میں اس میں جماعت کو یہ توجہ دلاؤں کہ یہ نہایت ہی اہم کتاب ہے اور اس کی تمام ترقی اس کے پڑھنے پر منحصر ہے۔اب بیسیوں ہی کتب اور رسائل میرے پاس آتے ہیں۔اگر ہر رسالے پر ریویو لکھنا ہی خلیفہ کا کام ہو تو پانچ سات خلیفے خلیفہ ریویو ہونے چاہئیں۔پھر پانچ سات خلیفے محض اس غرض کے لئے ہونے چاہئیں کہ وہ لوگوں کے سامنے ان رسالوں اور کتابوں کی سفارش کرتے پھریں۔اور ابھی تو ہماری جماعت تھوڑی ہے، پھر زیادہ پھیل جائے گی تو دو دو ہزار خلیفے محض ان کتابوں پر ریویو کرنے کے لئے ہونے چاہئیں۔کیونکہ انگلستان وغیرہ میں تو لاکھوں کتب اور رسالے شائع ہوتے رہتے ہیں اور ان سب پر ریویو کرنے کے لئے کئی کئی خلیفوں کی ضرورت ہوگی۔پس ایسے لوگوں کی کتابوں کی