خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 197
خطابات شوری جلد دوم ۱۹۷ مشاورت ۱۹۳۷ء ساروں کو ہدایت دے سکتا ہے، اُس وقت وہ کبھی مایوس نہیں ہوسکتا۔چنانچہ دیکھو، پہلے مخاطب اس کے عرب تھے اور قرآن کریم کے مقولہ کے مطابق وہ سب ہدایت پا گئے اور پھر ایک فرد بھی ہدایت سے باہر نہ رہا۔پس فرماتا ہے فَلا تَكُونَنَّ مِنَ الْجَمِلِينَ اے مومن ! تو اس نکتہ کو کبھی نہ بھولیو۔جاہل کا لفظ عربی زبان میں صرف بیوقوف کے معنوں میں ہی استعمال نہیں ہوتا بلکہ جسے کسی بات کی واقفیت نہ ہو اُسے بھی جاہل کہا جاتا ہے۔چنانچہ اہل عرب کہتے ہیں جَهِلْتُ ذَالِكَ مجھے اس بات کا علم نہیں تھا۔پس فلا تكونن من الجملین کے یہ معنے ہیں کہ اس نکتہ سے غافل نہ رہو کہ تیرے خدا میں بہت بڑی طاقت ہے اور وہ ایک کیا ساری دُنیا کو ہدایت دے سکتا ہے۔غرض کفار کے متعلق بھی گبر کا لفظ استعمال کیا گیا ہے کہ وہ کہتے ہیں انبیاء میں کوئی طاقت نہیں اور اس کا جواب یہ دیا کہ تم سارا زور لگا کر دیکھ لو تم جیتے ہو یا ہارتے ہو۔اور نبیوں کے متعلق بھی فرمایا کہ اُن کی جماعتیں بھی بعض دفعہ مخالفت کو دیکھ کر کہتی ہیں کہ شاید اب ان لوگوں کا ایمان لانا مشکل ہوگا۔مگر اس کے متعلق بھی فرماتا ہے کہ تم ایسا وہم بھی نہ کرو بلکہ زور لگاؤ تبلیغ پر اور جُھک جاؤ دعاؤں کے لئے۔پھر تم دیکھو گے کہ ہم قوم کی قوم اور ملک کے ملک کو ہدایت دے دیتے ہیں یا نہیں۔تو دونوں کے متعلق گبر کا لفظ استعمال کر کے بتا دیا کہ کسی اچھی بات کے غیر ممکن ہونے کا خیال خواہ مومنوں میں پیدا ہو یا کافروں میں، دونوں صورتوں میں غلط ہے۔اگر مومن ایسا خیال کریں تو یہ بھی درست نہ ہوگا اور اگر کفار خیال کریں تو اُن کی غلطی ہوگی۔چونکہ نبی کا خاصہ یہ ہوتا ہے کہ جب بھی وہ ایسے حالات دیکھتا ہے، فوراً خدا تعالیٰ کی طرف جھک جاتا ہے، اس لئے اس جگہ صرف نبی مخاطب نہیں۔اور اگر ہو تو ہم کہیں گے کہ خدا نبی کو یہ تعلیم دے رہا ہے، تا کہ وہ اسے آگے مومنوں تک پہنچا دے کیونکہ نبی خدا تعالیٰ کی رحمت سے کبھی مایوس نہیں ہوتا۔ہاں مومن بعض دفعه مجزوی طور پر مایوس ہو جاتے ہیں گو کلّی طور پر وہ بھی مایوس نہیں ہوتے کیونکہ اگر ہوں تو وہ مومن ہی نہیں رہتے۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے لَا تَا يَسُوا مِنْ رَّوْحِ اللَّهِ إِنَّهُ لا يا ي من روح الله إلّا القَوْمُ الكفرون " کہ خدا تعالیٰ کی رحمت سے کبھی مایوس مت ہو کیونکہ اُس کی رحمت سے کا فر مایوس ہوا کرتے ہیں، مومن مایوس نہیں ہوتے۔تو