خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 198
خطابات شوری جلد دوم ۱۹۸ مشاورت ۱۹۳۷ء اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں یہ بتایا ہے کہ کسی چیز کو ناممکن سمجھنا غلطی ہے۔غرض یہ تین چیزیں ہیں جو اپنی دو دو شقوں کے لحاظ سے چھ چیزیں بن جاتی ہیں۔جب تک ان سب باتوں کو مد نظر نہ رکھا جائے اُس وقت تک انسان کبھی صحیح اندازہ نہیں لگا سکتا۔میں نے دیکھا ہے جب لوگ مشورہ کے لئے کھڑے ہوتے ہیں تو اُن کی وہی حالت ہوتی ہے جو قصہ کہانیوں میں ایک حجام کی بیان کی گئی ہے۔کہتے ہیں ہارون الرشید کے زمانہ میں کوئی نائی تھا جسے کسی امیر نے ایک شادی کے موقع پر پانچ سو اشرفیاں انعام دے دیں۔وہ چونکہ امراء کا نائی تھا اس لئے اشرفیوں کی تھیلی کبھی چھپا کر نہ رکھتا بلکہ جہاں جاتا اپنے پاس رکھتا اور اُسے اُچھالتا رہتا۔شاید اس لئے کہ باقی امراء بھی دیکھ کر اُسے کچھ دے دیں۔وہ چونکہ ہر جگہ تھیلی اپنے پاس رکھتا اور اُسے اُچھالتا رہتا تھا اس لئے لوگوں نے اُس کا مذاق بنا لیا۔اور اُس سے پوچھتے میاں خلیفہ ! بتاؤ شہر کا کیا حال ہے؟ وہ کہتا شہر کا حال کیا پوچھتے ہو، کوئی کمبخت بھی ایسا نہ ہو گا جس کے پاس پانچ سو اشرفیاں نہ ہوں۔آخر کسی نے ہنسی سے اُس کی تھیلی غائب کر دی چونکہ وہ امراء کا نائی تھا اِس لئے اُسے اتنی جرات نہ تھی کہ وہ امراء سے پوچھ سکتا کہ میری تحصیلی کس نے غائب کر دی؟ لیکن اندر ہی اندر غم سے اُس نے سُوکھنا شروع کر دیا۔اب جو اُس سے لوگ دریافت کرتے کہ شہر کا کیا حال ہے؟ تو کہتا شہر کا حال کیا بتائیں ، بُھو کا مر رہا ہے۔آخر جس نے تھیلی غائب کی تھی اُس نے نکال کر سامنے رکھ دی اور کہا شہر کو بھوکا نہ مارو اپنی تھیلی لے لو۔تو کئی لوگ اپنے نفس کے متعلق ایک اندازہ لگاتے اور پھر اُس اندازہ کو باقی سب لوگوں پر چسپاں کر دیتے ہیں۔ایک دیکھتا ہے کہ سال میں میں نے صرف دو دفعہ چندہ دیا ہے دس دفعہ چندہ نہیں دیا۔اس پر وہ ہ کہنا شروع کر دیتا ہے بجٹ نہ بڑھاؤ، کسی نے چندہ نہیں دینا اور مطلب یہ ہوتا ہے کہ چونکہ میں نے چندہ نہیں دیا اس لئے باقی لوگ بھی چندہ نہیں دیں گے۔پھر ایک مومن اپنے نفس کو دیکھتا ہے تو اُسے معلوم ہوتا ہے کہ اُس نے بارہ مہینے با قاعدہ چندہ دیا۔پس وہ جھٹ کھڑے ہو کر کہنا شروع کر دیتا ہے کہ یہ بالکل جھوٹ ہے کہ احمدی چندہ میں سستی کرتے ہیں، ہماری جماعت میں کوئی نادہند نہیں۔گویا اُس وقت اُس کی مثال اُس نائی کی سی ہوتی ہے جس کے پاس پانچ سو اشرفیاں تھیں ، اور وہ سمجھتا تھا کہ سارا شہر آسودہ حال ہے۔