خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 196 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 196

خطابات شوری جلد دوم ۱۹۶ مشاورت ۱۹۳۷ء P اُن کو سمجھانے کے لئے پوری کوشش اور جدوجہد سے کام لیا جائے ، اور دوسری طرف اُن کی ہدایت کے لئے دُعائیں کی جائیں۔چنانچہ ایک دوسری جگہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے تذتير ان نفعت الزنغری که تو نصیحت کرتا چلا جا، کیونکہ نصیحت آخر کامیاب ہو جایا کرتی ہے۔یہاں ان کے معنے قد کے ہیں جو تاکید کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے یعنی نصیحت کر کیونکہ نصیحت بار ہا مفید ثابت ہوتی ہے۔غرض اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ان تَبْتَغِي نَفَقَا فِي الْأَرْضِ تمہارا فرض ہے کہ تم دلوں میں سُرنگ لگاؤ اور دلائل اور براہین اُن کے سامنے پیش کرتے چلے جاؤ۔جس شخص میں ذرہ بھر بھی سنجیدگی ہو گی ، اُس کے کفر کی عمارت گرنی شروع ہو جائے گی۔یہ ایسا ہی امر ہے جیسے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسیح موعود کے متعلق بیان فرمایا کہ دجال اُس کی نظر سے پگھلنا شروع ہو جائے گا۔اس کا مطلب جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے براہین احمدیہ پنجم میں بیان فرمایا ہے یہی ہے کہ جوں جوں آپ کے دلائل یورپ میں پھیلیں گے کفر کی بنیادوں میں تزلزل پیدا ہو جائے گا اور دجالیت پچھلنی شروع ہو جائے گی سی غرض اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جب دشمن کی مخالفت اپنے انتہاء کو پہنچ جائے تو مومن کا کام یہ نہیں ہوتا وہ ہمت ہار کر بیٹھ جائے ، بلکہ اُس کا کام یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنی تدابیر کو انتہاء تک پہنچا دے۔اور ان تدابیر کے دو حصے کرے ایک حصہ تو یہ ہے کہ وہ زمینی کوشش کرے یعنی تبلیغ اپنے کمال کو پہنچا دے اور دوسرا حصہ یہ ہے کہ آسمان کی طرف سیڑھی لگائے اور خدا کا کوئی نشان لائے ، یعنی اللہ تعالیٰ کے حضور کثرت سے دعائیں کرے۔انابت اور تضرع میں مشغول ہو جائے اور اُس سے مدد مانگتا ہوا کہے کہ اے خدا! میرے سامان سب ختم ہو گئے ہیں تو اب اپنی نصرت ہی نازل فرما۔چنانچہ آگے اس کا ثبوت بھی دیا ہے کہ یہ ناممکن امر نہیں۔فرماتا ہے ولو شاء اللهُ لَجَمَعَهُمْ عَلَى الهُدى فَلا تَكُونَنَّ مِنَ الْجَمِيين - اے مومن ! تو مایوس نہ ہواگر خدا چاہے تو ان کا فروں کو بھی ہدایت دے دے فلا تكون من الجملتين اور تو اس نکتہ کو بھولیو نہیں کیونکہ جب انہیں ہدایت دینا خدا تعالیٰ کی طاقت میں ہے تو مایوسی کی کوئی وجہ نہیں۔مایوسی ہمیشہ اُس وقت پیدا ہوتی ہے جب انسان کو اپنی تدابیر میں رخنے ہی رخنے نظر آتے ہوں لیکن جب وہ یہ سمجھ لے کہ ایک کیا خدا تعالیٰ