خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 159 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 159

خطابات شوری جلد دوم ۱۵۹ مشاورت ۱۹۳۷ء ہے کہ ایک مہمان کسی شخص کے ہاں آیا اُس نے دیکھا کہ اُس مکان میں ایک چوہا تھا جو کھانے پینے کی چیزیں زبر دستی اُٹھا کر لے جاتا تھا۔گھر والے اُسے مارنے کی کوشش کرتے ، لیکن وہ ہمیشہ تیزی سے بھاگ کر نکل جاتا۔اس طرح وہ چوہا کھا کھا کر بہت موٹا ہو گیا۔گھر والوں نے اُس مہمان کے پاس ذکر کیا کہ یہ چُوہا بڑا تیز معلوم ہوتا ہے، اس نے ہمارا ناک میں دم کر رکھا ہے۔بہتیرا ہم زور لگاتے ہیں کہ اسے پکڑیں مگر یہ قابو میں نہیں آتا۔ہم بیٹھے ہوئے ہوتے ہیں کہ میز پر گودتا ہے اور کوئی چیز اٹھا کر لے جاتا ہے۔ہم مارنا چاہتے ہیں تو وہ تیزی سے نکل جاتا ہے اس کا کیا علاج کریں؟ مہمان نے کہا، آپ اس چوہے کی پل کھود کر دیکھیں، اس کے اندر سے ضرور روپیہ نکلے گا۔چنانچہ انہوں نے پل کو کھودا تو اُس میں سے ایک تھیلی دیناروں سے بھری ہوئی نکلی۔گھر والوں نے وہ تھیلی اپنے قبضہ میں کر لی اور اس کے بعد سے چوہے کی طاقت بھی جاتی رہی۔یہ در حقیقت کہانی کے رنگ میں اس امر کا ذکر ہے کہ دُنیا دار لوگ روپیہ ہاتھ آ جانے پر اترا جاتے ہیں اور چوہا کا نام اس لئے رکھا کہ چوہا زمین کی طرف ہمیشہ مجھکا رہتا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی منافق کی مثال چوہے سے دی ہے، غرض دُنیا دار لوگ روپیہ ہاتھ میں آجانے پر اتر جاتے ہیں اور فخر اور محجب میں مبتلا ہو جاتے ہیں مگر اس کا نام ہم رونق نہیں رکھ سکتے ، رونق ہمیشہ ایمان سے آتی ہے۔روپیہ تو آتا اور ختم ہو جاتا ہے، لیکن رونق وہ ہے جس کے پیچھے رونق کا ایک سلسلہ لگا ہوا ہو اور خوشی ہمیشہ پہنچتی رہے لیکن رو پید تو خواہ کروڑوں کروڑ ہو پھر بھی ختم ہو جاتا ہے۔ہندوستانی تو اکثر غریب ہیں اور صرف کچھ لوگ ہیں جو یونہی نقلی طور پر امیر کہلاتے ہیں۔ان امیر کہلانے والوں کی یورپ کے امراء کے مقابلہ میں ہستی ہی کیا ہے۔مگر یورپین کروڑ پتی بھی کئی دفعہ کنگال ہو جاتے ہیں۔ہماری سمجھ میں ہی نہیں آ سکتا کہ اتنا روپیہ وہ کہاں خرچ کر دیتے ہیں۔اُن کا ذکر تو جانے دو ہندوستان کے امراء جو اُن سے چھوٹے ہوتے ہیں، ہم اُن کی دولت کے خرچ ہونے کا بھی اندازہ نہیں کر سکتے۔حال ہی میں لالہ ہر کشن لال فوت ہوئے ہیں، اُن کے ذمہ تین کروڑ کے قریب روپیہ مختلف بینکوں اور سوسائٹیوں کا نکلتا تھا حالانکہ وہ خود بھی بڑے مالدار تھے۔اب سارے لوگ حیران ہیں کہ اس قدر روپیہ کہاں گیا مگر وہ کوئی خرچ کرنے