خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 160 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 160

خطابات شوری جلد دوم ۱۶۰ مشاورت ۱۹۳۷ء کا ڈھنگ جانتے تھے ، جس کی وجہ سے اُنہوں نے روپیہ لیا اور ضائع کر دیا۔ہمارے زمینداروں کے سامنے تو اگر کوئی یہ بات پیش کرے کہ فلاں شخص نے تین کروڑ روپے خرچ کر دیئے۔تو وہ کہیں گے بالکل جھوٹ کھلا تین کروڑ بھی کوئی خرچ کر سکتا ہے۔مگر اُن کی اپنی حالت یہ ہوتی ہے کہ جو کچھ اُن کے پاس آتا ہے سب کچھ خرچ کر کے مقروض ہی رہتے ہیں۔چنانچہ جس کے پاس سو ایکڑ زمین ہو، وہ بھی مقروض ہوتا ہے اور جس کے پاس دوسو ایکڑ زمین ہو، وہ بھی مقروض رہتا ہے، اور جو خوش ہوتا ہے، وہ تھوڑی زمین پر بھی خوش ہوتا ہے اور عمدگی سے اپنا گزارہ کر لیتا ہے۔یہاں قریب ہی پھیر و پیچی ایک گاؤں ہے۔اس گاؤں کا بڑا حصہ احمدی ہے کچھ ارائیں ہیں اور کچھ گوجر۔ایک دفعہ ایک دوست نے شکایت کی کہ ہمارے پاس زمین تو بڑی ہے مگر کچھ ایسی نحوست پڑی ہے کہ ہم ہمیشہ مقروض رہتے ہیں۔چونکہ اُس نے مجھ سے مشورہ پوچھا تھا، اس لئے میں نے اُس سے پوچھا کہ آپ کی کتنی زمین ہے؟ اُس نے کہا کہ پہلے چار کنال تھی ، لیکن اب دو کنال اور بھی خرید لی ہے اور چھ کنال زمین ہو گئی ہے چونکہ ارائیں قوم اکثر سبزی ترکاری ہوتی اور اُسی پر گزارہ کرتی ہے اس لئے چھ کنال زمین کا اُن کے پاس ہونا بھی بہت بڑی حیثیت کا موجب سمجھا جاتا ہے اور واقعہ میں وہ ارائیں جو چھ چھ کنال زمین کے مالک ہیں، وہ اُن گوجروں سے زیادہ اعلی گزارہ کرتے ہیں، جو ہیں ہیں، پچاس پچاس، اور سو سو گھماؤں زمین کے مالک ہیں۔تو روپیہ کوئی چیز نہیں ، امداد کا تسلسل اصل چیز ہے۔تم خود ہی سوچو وہ شخص زیادہ مالدار ہے جس کے پاس صرف ایک ہزار روپیہ ہے یا وہ زیادہ مالدار ہے جسے روزانہ اخراجات کے لئے جس قدر رقم کی ضرورت ہوتی ہے، میسر آجاتی ہے؟ جس کے پاس ہزار روپیہ ہے وہ تو ختم ہو جائے گالیکن جسے روزانہ امداد ملتی ہے وہ چلتی چلی جائے گی۔تو اصل چیز رو پیہ نہیں، بلکہ اصل چیز امداد کا تواتر ہے اور یہ تو اتر محض اللہ تعالیٰ کی طرف سے آتا ہے۔چنانچہ جو خدا تعالیٰ سے تعلق رکھتا ہے، وہ خرچ کرتا ہے اور پھر اور آ جاتا ہے۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے گھر میں کچھ غلہ ڈلوا دیا اور فرمایا اس سے گزارہ کرو۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں ہم اُس غلہ سے خرچ کرتے رہے، کرتے رہے