خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 158
خطابات شوری جلد دوم ۱۵۸ مشاورت ۱۹۳۷ء بڑھے گا۔میں نے دیکھا ہے اپنی اپنی حدود سے متجاوز ہو جانے کی وجہ سے ہی بچوں میں لڑائیاں ہوتی ہیں گھر میں جب بچے آپس میں لڑ پڑتے ہیں اور تحقیق کی جاتی ہے تو اکثر معلوم ہوتا ہے کہ اس کی بنیاد اس امر پر ہے کہ وہ قانون کو اپنے ہاتھ میں لینا چاہتے ہیں۔چنانچہ اکثر بچہ جب دوسرے کو مارتا ہے اور اُس سے دریافت کیا جاتا ہے کہ اُس نے کیوں اپنے بھائی کو مارا ؟ تو وہ یہی کہتا ہے کہ پہلے اس نے مجھے گالی دی تھی اس لئے میں نے اُسے مارا ؟ لیکن ہم اس کو اپنے گھروں میں کبھی جائز نہیں سمجھتے کہ چونکہ پہلے فلاں نے سختی کی تھی اس لئے جواب میں اس کے لئے بھی سختی کرنا جائز تھا بلکہ بحیثیت والد یا بحیثیت اُستاد یا بحیثیت ایک بزرگ ہونے کے ہم یہی اُمید کرتے ہیں کہ جب کسی کی طرف سے سختی ہو تو وہ اپنے باپ یا اپنی ماں یا اپنے اُستاد یا اپنے کسی اور رشتہ دار کو جس کے ماتحت وہ رہتا ہو بتلائے اور معاملہ اُس کے سپرد کر دے، خود کوئی کارروائی کرنے کی کوشش نہ کرے۔پس اگر کسی کا حملہ اس حد تک پہنچا ہوا ہے کہ تمہیں اُس کے جواب کی ضرورت محسوس ہوتی ہے تو تم وہ معاملہ خلیفہ کے سامنے پیش کر دو بشر طیکہ وہ موجود نہ ہو اور اگر موجود ہو تو پھر اُس پر معاملہ چھوڑ دو۔وہ اگر مناسب سمجھے گا تو توجہ دلا دے گا اور اگر نہیں سمجھے گا تو نہیں دلائے گا۔ہاں جہاں حسابی لحاظ سے کوئی غلط فہمی ہو اُس غلط فہمی کو دور کر دینا چاہئے لیکن اس میں بھی کسی کا نام لینے کی ضرورت نہیں بلکہ یوں کہنا چاہئے کہ بعض دوستوں کو ایسی غلط فہمی ہوئی ہے جو درست نہیں ہے۔بہر حال گفتگو میں عام رنگ اختیار کرنا چاہئے کسی خاص فرد کو مخاطب نہیں کرنا چاہئے۔اس کے بعد میں بعض خیالات جو اس موقع پر ظاہر کئے گئے ہیں ان کی تردید کرنا چاہتا ہوں اور جہاں مزید وضاحت یا زور دینے کی ضرورت ہے، اُن امور کا بھی ذکر کرنا چاہتا ہوں۔رونق ایمان سے آتی ہے ایک دوست نے اپنی تقریر میں بیان کیا ہے کہ رونق روپے سے آتی ہے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ایک نقطہ نگاہ یہ بھی ہے۔چنانچہ کلیلہ دمنہ جو فلسفہ کی کتاب ہے لیکن کہانیوں کے رنگ میں لکھی گئی ہے اُس میں ایک کہانی آتی ہے جسے غالباً مثنوی رومی میں بھی بیان کیا گیا ہے، گو بیان کرنے میں کچھ فرق