خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 153
خطابات شوری جلد دوم ۱۵۳ مشاورت ۱۹۳۷ء کروڑوں آواز میں بلند ہونا شروع ہو جائیں گی اور ساری دُنیا بول اُٹھے گی کہ ہاں محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہم میں موجود ہیں کیونکہ آپ کی نمائندگی کا شرف ہمیں حاصل ہے لیکن ابو جہل کو بلانے پر تمہیں کسی گوشہ سے آواز اُٹھتی سُنائی نہیں دے گی۔ابو جہل کی اولا د آج بھی دُنیا میں ہو گی مگر کسی کو جرات نہیں کہ وہ یہ کہہ سکے کہ میں ابو جہل کی اولاد میں سے ہوں۔شاید عقبہ اور شیبہ کی اولاد بھی آج دنیا میں موجود ہومگر کیا کوئی کہتا ہے کہ میں عقبہ اور شیبہ کی اولاد ہوں۔پس دُنیا کی حکومتیں عارضی ہیں اور عارضی فتح کوئی فتح نہیں ہوا کرتی۔ایک قوم اگر دس میل آگے بڑھ جاتی اور پھر ہمیشہ کے لئے فنا ہو جاتی ہے تو کون کہہ سکتا ہے کہ وہ فاتح ہے۔اسی طرح اگر انبیاء کی جماعتوں کے مقابلہ میں دس ہیں یا سو سال تک دنیوی حکومتیں اپنا رُعب اور دبدبہ دکھلا لیں تو کیا ہو ا۔آخر انبیاء کی جماعتیں ہی دُنیا پر غالب آیا کرتی ہیں۔پس آپ لوگوں کو اپنا مقام سمجھنا چاہئے اور منافق کی پیروی نہیں کرنی چاہئے کیونکہ منافق ہمیشہ پست ہمت اور کم حوصلہ ہوتا ہے اور جب بھی وہ کوئی کام کرتا ہے اُس کا دل دھڑکتا ہے لیکن مومن کا حوصلہ بہت وسیع ، اُس کی ہمت بہت بلند اور اُس کا دل بہت مضبوط ہوتا ہے۔اُس کے حوصلہ کی وسعت کو کوئی چیز ناپ نہیں سکتی۔یہاں تک کہ آسمان اور زمین کی وسعت بھی مومن کے دل کی وسعت کے مقابلہ میں کچھ حقیقت نہیں رکھتی۔بھلا اندازہ تو کرو مومن کے دل کی وسعت کا، کہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔زمین و آسمان خدا تعالیٰ کی مٹھی میں ہوں گے لیکن دوسری طرف سورہ نور میں ایک لطیف اشارہ میں یہ امر بھی بیان فرماتا ہے کہ خدا تعالیٰ مومن کے دل میں ہوتا ہے۔جیسا کہ فرمایا اللهُ نُورُ السَّمَوتِ والأرض، مثل نوره مشکوة فِيهَا مِصْبَاحٌ الْمِصْبَاحُ فِي زُجَاجَةٍ الزُّجَاجَةُ كَأَنَّهَا كَوْكَبٌ دُرِّيٌّ يُوقَدُ مِن شَجَرَةٍ مُّبَرَكَةٍ زَيْتُونَةٍ لَّا شَرْقِيَّةٍ وَلَا غَرْبِيَّةٍ يَكَادُ زَيْتُهَا يُضِي وَلَوْ لَمْ تَمْسَسْهُ نَارُ نُور عَلى نُورِ، يَهْدِى اللَّهُ لِنُورِهِ مَن يَشَاءُ وَيَضْرِبُ اللهُ الأَمْثَالَ لِلنَّاسِ، وَاللَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عليم۔پھر بھلا زمین و آسمان کی وسعت مومن کے دل کی وسعت کا کہاں مقابلہ کر سکتی ہے۔یہ وہی مضمون ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اس الہام میں بیان ہوا کہ اَنْتَ مِنِّی وَاَنَا مِنْكَ ط