خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 154
خطابات شوری جلد دوم ۱۵۴ مشاورت ۱۹۳۷ء یعنی میں تیرا ہوں اور تو میرا۔پس مومن کے حوصلہ کی وسعت اور زمین و آسمان کی وسعت کی آپس میں کوئی نسبت ہی نہیں۔یہ وسعت اُس سے بہت زیادہ ہے کیونکہ مومن کا دل اللہ تعالیٰ کی محبت کا قرار گاہ ہوتا ہے اور اُس کی لازوال محبت اپنے دل میں رکھنے کی وجہ سے خدا تعالیٰ کی غیر محدودیت کی چادر ظلی طور پر اُس پر اوڑھا دی جاتی ہے اور وہ اُس زمانہ کی باتیں دیکھ لیتا ہے جس زمانہ کی باتوں کو کوئی اور شخص نہیں دیکھ سکتا۔جب محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسلام کی ترقیات اور ترقیات کے بعد اس کے تنزل کی پیشگوئی کی تھی اور بتایا تھا کہ مسیح موعود کے ہاتھوں کس طرح پھر اسلام کو عروج حاصل ہوگا تو ان باتوں کو کون سمجھ سکتا تھا مگر یہ تمام باتیں اسی طرح پوری ہوئیں جس طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اُن کے پورا ہونے کی خبر دی تھی۔پس دیکھ لومحمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نظر کتنی وسیع تھی۔کس طرح آپ کی نظر کے سامنے اسلام کی ترقی ، اسلام کے تنزل اور پھر اسلام کے دوبارہ غلبہ کا نقشہ پورے طور پر بینچ کر رکھ دیا گیا تھا۔یہ وسیع فوٹو جو آپ کے دماغ پر کھینچا گیا، اس کا مقابلہ بھلا دُنیا کی تاریخیں کہاں کر سکتی ہیں۔دُنیا کی تاریخیں صرف ماضی کے واقعات پر مشتمل ہوتی ہیں مگر آپ کے دماغ پر جو نقشہ کھینچا گیا وہ ماضی، حال اور مستقبل تینوں زمانوں پر حاوی تھا اور پھر جب خدا نے جنت اور دوزخ کا نقشہ بھی آپ کو دکھا دیا تو آپ کی نظر کو غیر محدود طور پر وسیع ماننا پڑا۔پس اپنے حوصلوں کو بڑھاؤ اور اپنی قوت عملیہ کو ترقی دو اور زبان کے چسکوں کو جانے دو کہ اب عمل کی ضرورت ہے باتوں کی ضرورت نہیں ہے۔“ 66 دوسرا دن مجلس مشاورت کے دوسرے دن (۲۷ / مارچ ۱۹۳۷ء کو ) حضور نے ممبران کو بعض اہم امور کی طرف توجہ دلاتے ہوئے تشہد ،تعوذ کے بعد فرمایا: - وه آج یہ سوال دوستوں کے سامنے پیش تھا کہ ہندوستان کے مختلف مقامات میں تبلیغی مرکز قائم کرنے کے لئے بجٹ میں گزشتہ سال کی نسبت کچھ زیادہ رقم رکھی جائے تاکہ