خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 149
خطابات شوری جلد دوم ۱۴۹ مشاورت ۱۹۳۷ء فرسٹ نکلا ہوگا تو اُس کے ماں باپ اور دوسرے رشتہ داروں نے کتنا فخر کیا ہو گا لیکن خدا تعالیٰ نے اُس کی عقل واپس لے کر بتا دیا کہ یہ چیز اس کی نہیں تھی ، خدا کی تھی۔پس وہ صحت جس سے ہم کام کرتے ہیں، وہ اعضاء جن سے ہم چلتے پھرتے ہیں، وہ عقل جس کو ہم استعمال کرتے ہیں، وہ حافظہ جس سے ہم مدد لیتے ہیں، یہ سب چیزیں خدا تعالیٰ کی طرف سے انعام بطور پیشگی تنخواہ ہیں لیکن ہم ایک نادہند مزدور کی طرح پیشگی تنخواہ لینے کے باوجود کام نہیں کرتے اور اُس کے کام چھوڑ کر جو پیشگی تنخواہ دیتا ہے اُس کا کام کرنے لگ جاتے ہیں جو کام لینے کے بعد تنخواہ دیتا ہے۔نادہند مزدور کا یہی طریق ہوتا ہے کہ وہ کہیں سے پیشگی مثلاً آٹھ آنے لے لیتا ہے اور پھر اُس کا کام کرنے کی بجائے کسی اور کے وعدہ پر چلا جاتا ہے۔ہم بھی اللہ تعالیٰ کے معاملہ میں نادہند مزدور کی طرح عمل کرتے اور اُس کے احسانات اور انعامات کو دیکھنے کے باوجود دوسرے کے کام میں مشغول ہو جاتے ہیں۔پس آپ لوگوں کا فرض ہے کہ آپ سلسلہ کی اہمیت کو سمجھیں اور اپنے اندر تغیر پیدا کریں۔بیسیوں وعدے آپ لوگ یہاں کر کے جاتے ہیں مگر جب آپ اپنے گھروں پر پہنچتے ہیں تو ان وعدوں کو بُھول جاتے ہیں۔پھر آپ کی یاد دہانی کے لئے اعلان پر اعلان کئے جاتے ہیں اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ آپ لوگوں کی زبان کچھ اور ہے اور ہماری کچھ اور، اور آپ ” الفضل“ کے مضامین کو سمجھتے ہی نہیں حالانکہ ترقی اور کامیابی حاصل کرنے کے لئے ضروری ہے کہ اصلاح نفس کی جائے۔جس کا طریق یہ ہے کہ جو انسان ارادہ کرے، اُس پر عمل کرے۔اگر یہ نہیں تو محض جمع ہونے اور باتیں کرنے سے کیا فائدہ ہوسکتا ہے۔پس میں دوستوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ وہ باتوں کو سنے اور اُن سے مزہ اُٹھانے تک ہی اپنے آپ کو محدود نہ رکھیں بلکہ اپنے اندر قوت عملیہ پیدا کریں۔جب یہ چیز پیدا ہو جائے گی اور ساتھ ہی اس امر کو آپ مد نظر رکھیں گے کہ سلسلہ احمد یہ ایک عظیم الشان مقصد کو لے کر کھڑا ہوا ہے جس مقصد کو ہر وقت پیش نظر رکھنا آپ کا فرض ہے تو آپ کی کامیابی یقینی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس ذکر میں کہ کبھی ہمت نہیں ہارنی چاہیئے انسان کوبھی ہمت نہیں ہارنی چاہئے ہارے دادا صاحب کا ذکر سنایا کرتے تھے کہ جب ہمارے خاندان کی ریاست جاتی رہی تو اُن کے والد صاحب