خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 148 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 148

خطابات شوری جلد دوم ۱۴۸ مشاورت ۱۹۳۷ء پر اعتقاد چلا آ رہا ہے۔اس کے بعد ازالہ اوہام چھپی تو وہ میں نے پڑھی۔غرض ایسی ایسی سمجھ کی باتیں کیں کہ مجھے یقین آگیا کہ جو کچھ اس نے شروع میں کہا ہے یہ درست ہے اور اسے دشمنی سے ہی کسی نے پاگل خانہ میں بھجوا دیا ہے مگر یہیں تک گفتگو پہنچی تھی کہ وہ کھڑے ہو کر کہنے لگا۔ایک بات بتاؤں مرزا صاحب سے ایک غلطی ہو گئی ہے۔میں نے سمجھا کہ جب یہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا مرید نہیں تو واقعہ میں سمجھتا ہوگا کہ آپ سے غلطی ہوئی ہے۔میں نے کہا فرمائیے۔کہنے لگا حضرت عیسی علیہ السلام کی موت تو قرآن مجید سے ثابت ہے اور یہ بالکل درست ہے مگر يعيسى إني مُتَوَقِيكَ " میں مُتوقِيكَ کے معنے موت کے نہیں۔اس پر میں نے پھر سمجھا یہ مولوی آدمی ہے متوفی کے معنے یہی سمجھتا ہوگا کہ میں پورا کروں گا اور خیال کرتا ہوگا کہ اس کے معنے بلا واسطہ موت کے نہیں لیکن جب اُس کے معنے سنے تو میں حیران رہ گیا۔وہ کہنے لگا دراصل اني متوفيت کے یہ معنے ہیں کہ اے عیسی ! میں تیرے چہلم کی روٹی کروں گا۔تب میں نے سمجھا کہ میں نے اس پر جس قدر حسن ظنی کی تھی وہ سب غلط تھی۔دراصل یہ پاگل ہی ہے۔چنانچہ ابھی باتیں ہو رہی تھیں کہ ایک دوسرا پاگل آ گیا، جو پاگل اچھے ہو رہے ہوتے ہیں انہیں آپس میں ملنے کی افسر اجازت دے دیتے ہیں، وہ بھی اُسے ملنے آ گیا اور کہنے لگا مجھ سے تم نے جو پیسے لئے تھے ( جو غالباً چھ تھے ) وہ مجھے واپس کرو۔اُس نے کہا میرے پاس ہے نہیں۔وہ کہنے لگا میں تو لے کر ہٹوں گا۔اس پر آپس میں تکرار ہو گئی۔میں نے جھگڑا بڑھتے دیکھا تو جیب میں ہاتھ ڈالا اور پیسے نکال کر اُس کو دے دیئے۔یہ پیسے دینے تھے کہ مولوی صاحب جلال میں آگئے۔ڈاکٹر کو مخاطب ہو کر کہنے لگے، ابھی جا کر ان کی دعوت کرو اور انہیں پانچ روپے نذر دو۔یہ محمود غزنوی ہیں، محمود غزنوی۔انہوں نے ہی بٹھنڈہ فتح کیا تھا۔ڈاکٹر نے جب دیکھا که مولوی صاحب کو جلال آ رہا ہے تو اُس نے مجھے کہا اب آپ تشریف لے چلیں اب ان کے پاس کھڑا ہونا مناسب نہیں۔تو دماغ کی گل ذراسی بگڑ جائے تو اچھا بھلا، پڑھا لکھا عقلمند انسان کہاں کا کہاں پہنچ جاتا ہے۔وہیں میں نے ایک ایم۔اے دیکھا جو پاگل تھا۔وہ بالکل بولتا نہیں تھا اور زبردستی نلکی کے ذریعہ اُس کے معدہ میں غذا پہنچائی جاتی تھی۔۔۔وہ ایک حج کا بیٹا تھا اور ایم۔اے میں تمام یونیورسٹی میں اول رہا۔جب وہ یو نیورسٹی میں سے