خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 147 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 147

خطابات شوری جلد دوم ۱۴۷ مشاورت ۱۹۳۷ء خیال ہرگز صحیح نہیں۔خدائی گورنمنٹ سب گورنمنٹوں سے زیادہ تنخواہ دیتی ہے۔آپ کہیں گے وہ چندے بھی تو لیتی ہے مگر گورنمنٹ بھی تو ٹیکس وصول کرتی ہے۔پھر آپ غور کریں کون سی چیز آپ کی اپنی ہے؟ اگر کوئی زمیندار ہے اور وہ زمین کی کاشت کرتا ہے تو کیا زمین خدا کی ہے یا اُس کی۔پھر اگر کوئی پروفیسر ہے تو جس زبان سے وہ پڑھاتا ہے، جس دماغ سے وہ کام لیتا ہے، جن آنکھوں سے وہ دیکھتا اور جن کانوں سے وہ سُنتا ہے وہ اُس کے ہیں یا خدا کے عطیے ہیں؟ دراصل یہ سب چیزیں خدا تعالیٰ کی طرف سے تنخواہ ہیں جو انسان کو ملی۔فرق صرف یہ ہے کہ قانونِ قدرت کی تنخواہیں سونے چاندی کی صورت میں نہیں ملتیں۔دُنیوی حکومتوں میں بھی سونے چاندی کی شکل میں تنخواہیں بہت بعد میں تو ہونے لگی ہیں۔پہلے دُنیاوی حکومتوں میں بھی اشیاء کی صورت میں تنخواہیں ملا کرتی تھیں۔پس خدا تعالی کی طرف سے بھی انعام طبعی چیزوں کی شکل میں ملا کرتا ہے اور طبعی چیزیں یہی ناک، کان، آنکھ، منہ، زبان، دل، دماغ اور دوسرے اعضاء ہیں۔پھر گورنمنٹ نوکری کے بعد تنخواہ دیتی ہے لیکن خدا تعالیٰ نے پہلے سے تنخواہ دے دی ہے۔یہ تنخواہ اس قدر قیمتی ہے کہ جس قدر انسانی ترقیات ہوتی ہیں، سب اسی پر مبنی ہوتی ہیں۔اچھا بھلا عقلمند آدمی ہوتا ہے اُس سے جب خدا اپنی عقل کی نعمت واپس لے لیتا ہے تو کیسا پاگل ہو جاتا اور بہکی بہکی باتیں کرنے لگ جاتا ہے۔میں ایک دفعہ پاگل خانہ دیکھنے گیا۔بچپن کی عمر تھی۔وہاں پاگل خانے کا ایک منظر مجھے اپنی شخص سے تعلق بتایا گیا کہ یہ مولوی صاحب ہیں اور پاگل ہیں۔میں اُس کے پاس کھڑا ہو گیا۔اُس نے مجھ سے گفتگو شروع کر دی اور ایسی ایسی معقول باتیں کیں کہ میں حیران رہ گیا کہ اُسے پاگل خانہ میں کس طرح داخل کر دیا گیا ہے۔اُس نے بتایا کہ پٹیالہ کے جو مولوی عبدالحق صاحب ہیں اُن کا وہ رشتہ دار ہے اور کوئی جائیداد کا معاملہ تھا جس میں دشمنی ہو جانے کی وجہ سے اُس کے رشتہ داروں نے اُسے پاگل خانہ میں بھجوا دیا۔ڈاکٹر اُس کا اِتنا معتقد کہ وہ کہے یہ ولی اللہ ہیں۔پھر اسی اثناء میں اُس نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ذکر شروع کر دیا اور کہا کہ مرزا صاحب بڑے بزرگ ہیں۔میں نے ان کی کتاب براہین احمدیہ سب پڑھی ہے اور براہین احمدیہ کے زمانہ سے ہی مجھے اُن