خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 146
خطابات شوری جلد دوم ۱۴۶ مشاورت ۱۹۳۷ء دیتے ، دیتے ہیں مگر یاد دہانیوں کے بعد اور جو چندے دیتے بھی ہیں اُن میں سے بھی اکثر ہیں جو چندے دے کر سمجھتے ہیں کہ اُنہوں نے اپنے فرض کو پورا کر دیا۔اسلامی حکومت کے قیام کیلئے حالانکہ وہ تغیر جو ہم نے دنیا کی طبائع، دنیا کے مزاجوں اور دُنیا کے اخلاق میں کرنا ہے اور وہ غیر معمولی قربانیوں کی ضرورت تغیر جس کے نتیجہ میں اسلامی حکومت کا قیام ہم نے عمل میں لانا ہے، اُس کے لئے اس سے بہت زیادہ بیداری، بہت زیادہ قربانی اور بہت زیادہ ایثار اور سرگرمی کی ضرورت ہے۔مگر میں نے افسوس کے ساتھ دیکھا ہے ابھی چھوٹی چھوٹی باتوں میں ہی ہمارے احباب اُلجھ کر رہ جاتے ہیں۔تحریک جدید کا میں نے بورڈنگ کھولا تو با وجود اس کے کہ اعلان کر دیا گیا تھا کہ اس میں بچوں کو مشقت برداشت کرنے کا عادی بنایا جائے گا اور سادہ غذا دی جائے گی ، پھر بھی شکایتیں آنی شروع ہو گئیں کہ ہمارے بچوں کو فلاں تکلیف ہے، کھانا ایسا ملتا ہے ایسا ملنا چاہئے حالانکہ یہ تمام باتیں پہلے سے بتا دی گئی تھیں اور ضروری بھی ہے کہ ہوں تا بچے جن پر آئندہ قوم کا انحصار ہو گا اُن کی ایسے ہی رنگ میں تربیت ہو کہ وہ زیادہ سے زیادہ قربانیاں پس میں جماعت کو نصیحت کرتا ہوں کہ وہ اپنی اہمیت سمجھے اور اپنا وہ مقام بھی پہنچانے جو خدا اتعالیٰ نے اُسے عطا کیا ہے۔آپ لوگوں کے علاقہ میں معمولی افسر آ جائے تو آپ دوڑے دوڑے اُس کے پاس جاتے ، اُسے سلام کرتے اور اُس کی ملاقات میں فخر محسوس کرتے ہیں اور آپ کو یہ خیال بھی نہیں آتا کہ خدا تعالیٰ کی بادشاہت میں آپ بہت بڑے افسر ہیں اور آپ کے مقابلہ میں اُس کی کچھ حیثیت ہی نہیں۔پھر خدا تعالیٰ کی بادشاہت میں با وجود ایک بہت بڑا افسر ہونے کے آپ ہیں کہ اپنے عہدے کا چارج لینے میں ہی نہیں آتے اور آپ کو اس بات کا یقین ہی نہیں آتا کہ خدا سچ بول رہا ہے۔آپ سمجھتے ہیں کہ شاید وہ محول کر رہا ہے کیونکہ چارج لینے کے بعد انسان کام شروع کر دیتا ہے اور تمام امور کی نگرانی کرنے لگ جاتا ہے اور آپ ابھی اس رنگ میں کام نہیں کر رہے۔شاید آپ لوگوں کو خیال آتا ہو کہ گورنمنٹ تنخواہیں دیتی ہے اور خدائی گورنمنٹ تنخواہ نہیں دیتی۔مگر یہ