خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 126
۱۲۶ مجلس مشاورت ۱۹۳۶ء خطابات شوری جلد دوئم تھا۔بعض اوقات خشک کھانسی ایسی چلتی تھی کہ گھنٹوں شروع رہتی تھی لیکن دھر مسالہ سے واپسی پر رستہ میں پہاڑ گرا ہو ا تھا جہاں ہم کھڑے رہے اور بارش سے بھیگ گئے اس سے نزلہ ہو گیا جو گلے میں گرنے لگا اور دست شروع ہو گئے۔یہ سلسلہ چلا جا رہا ہے، بدھ کے دن کسی قدر آرام آیا اور میں نے تقریر کی اُس کے بعد پھر نزلہ گرا۔اسی حالت میں پرسوں میں نے تقریر کی اور پھر کھانسی شروع ہو گئی۔اس تکلیف کی وجہ سے حالت یہ ہے کہ ایک جمعہ پڑھا تا ہوں تو اگلے جمعہ تک بیمار رہتا ہوں۔پھر کچھ آرام آتا ہے اور خطبہ پڑھتا ہوں تو پھر بیمار ہو جاتا ہوں۔اِن حالات میں کئی قسم کے کام ہیں جو میں نہیں کر سکتا جب تک اللہ تعالیٰ صحت نہ دے۔درس جو میں نے جاری کیا تھا وہ بھی بند ہو گیا ہے۔بعض اوقات تو ایسی حالت ہو جاتی ہے کہ ڈاک بھی لیٹے لیٹے پڑھنی پڑتی ہے اور لیٹے ہی جواب لکھنا پڑتا ہے۔تو کئی کام جو جاری کئے ہوئے تھے اُن میں التواء ہو رہا ہے۔ایسے وقت میں میں جماعت سے امید رکھتا ہوں کہ زیادہ بیداری کا ثبوت دے۔جب یہ عادت پڑ جائے کہ دوسرا جگائے تو پھر انسان اس امید میں رہتا ہے کہ کوئی اُسے جگا دے گا لیکن جب پتہ ہو کہ جگانے والا کوئی نہیں تو آپ ہی اُٹھ بیٹھتا ہے۔جیسا کہ میں نے بتایا ہے مجھ میں اب وہ طاقت نہیں جو پہلے بیدار کرنے میں لگایا کرتا تھا اِس لئے میں آپ لوگوں سے ایک تو یہ چاہتا ہوں کہ جماعت کو بیدار کرنے کے کام میں حصہ لیں۔صوفی مطیع الرحمن صاحب مبلغ امریکہ کی روانگی کے وقت میں نے جو تقریر کی تھی جو لکھی جا چکی ہے اور چھپ جائے گی ، اُس میں میں نے بتایا ہے کہ تحریک جدید جماعت احمدیہ کے لئے اسی طرح ہے جس طرح انگریزوں کے لئے میگنا کارٹا ہے۔اس میں جماعت کی ترقی کے وہ اصول بتائے گئے ہیں جن کی اس وقت ضرورت ہے۔اگر احباب ان کے بین السطور کو پڑھیں تو ایسا مصالحہ مل سکتا ہے جو صدیوں تک کام آئے۔جب میں نے وہ باتیں لکھی تھیں جو سمجھتا تھا کہ القائی ہیں اور اللہ تعالیٰ نے میرے دل میں ڈالی ہیں میں اُس وقت دلیری سے کہہ رہا تھا کہ جماعت کے سامنے سکیم پیش کروں گا مگر صرف اتنا جانتا تھا کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے جو طاقت مجھ میں آئی ہے وہ خود بتائے گی حتی کہ وقت پر اُس کی حقیقت مجھ پر کھولی گئی۔تب میں سمجھا کہ یہ ایک ایسی طاقت اور