خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 125 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 125

خطابات شوری جلد دوئم ۱۲۵ مجلس مشاورت ۱۹۳۶ء سے جلد کام شروع کر کے جنوری تک رپورٹ پیش کر دے تا کہ اگلے بجٹ کے وقت اسے مد نظر رکھا جائے۔اسکے بعد مجلس مشاورت کی کارروائی ختم کی جاتی ہے۔ابج چکے ہیں اور ۱۲ بجے اجلاس برخاست کرنا ہے لیکن بعض باتیں میں کہہ دینا چاہتا ہوں۔گوکل سے مجھے بخار ہے اور سینہ میں درد ہے، میں اچھی طرح بول نہیں سکتا اور آواز کو کھینچ کر نکال رہا ہوں۔پہلے میں صیغوں کو توجہ دلاتا ہوں۔بابو فیض الحق صاحب نے بعض امور کی طرف توجہ دلائی ہے کہ صیغوں نے ان کے متعلق غفلت کی ہے۔ناظر صاحب اعلیٰ کو ایسی تجویز کرنی چاہئے کہ جو باتیں مجلس شوریٰ میں طے ہوں اُن کو قلمبند کرنے کے لئے کئی آدمی لگائے جایا کریں تا کہ وہ فوراً مختلف امور کو علیحدہ علیحدہ ترتیب دے کر پیش کر سکیں اور ان پر فورا عمل کیا جائے۔اب یہ انتظام ہے کہ الفضل والے روئیداد لکھتے ہیں اور ان سے پوچھ لیا جاتا ہے کہ کیا ہوا ؟ اگر مجلس مشاورت کے تین دن کام کرنے کے لئے دس آدمی بھی رکھ لئے جائیں تو ان پر کتنا خرچ آ جائے گا ؟ اب ایک آدمی کام کرتا ہے جسے روئیداد مرتب کرنے میں دیر لگتی ہے اس کو تا ہی کا علاج کیا جائے۔اب تخفیف کمیٹی اپنے متعلق امور نکال لے اور کمیشن جو دفاتر کی تحقیقات کرنے والا ہے وہ اپنا حصہ نکال لے۔کل لجنہ اماء اللہ سے ایک امر کے متعلق مشورہ لینے کے لئے کہا تھا۔یہ کام ناظر صاحب اعلیٰ کے سپرد کرتا ہوں۔وہ خود کریں یا کسی اور سے کرائیں مگر ہونا ضرور چاہئے۔اس کے بعد میں اختصار کے ساتھ احباب کو رخصت کرتے وقت بعض نصیحتیں کرنا چاہتا ہوں۔گوجیسا کہ میں نے بتایا ہے اس وقت میری صحت اور گلا اجازت نہیں دیتا کہ کچھ بول سکوں یا زور سے آواز نکالوں۔یہ الفاظ جو بول رہا ہوں اس طرح معلوم ہوتا ہے کہ کھینچ کر سینہ سے نکال رہا ہوں۔گزشتہ پانچ ماہ سے میری جسمانی صحت کو نہ معلوم کیا صدمہ پہنچ گیا ہے کہ مسلسل کھانسی اور نزلہ کی تکلیف جاری ہے۔اب کے دھر مسالہ جانے سے قبل بھی بعض اوقات گلے میں اس طرح تکلیف شروع ہو جاتی تھی کہ رات کو سونہیں سکتا